Scientific yawning secret revealed

جمائی کا دلچسپ سائنسی معمہ، ماں کے پیٹ میں بچے بھی یہ رویہ اختیار کرنے لگتے ہیں، ایک نئی تازہ تحقیق سامنے آگئی

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کیا آپ کو کبھی حیرت ہوئی ہے کہ کسی کو جمائی لیتے دیکھ کر آپ خود بھی ویسا کرنے پر کیوں مجبور ہو جاتے ہیں؟

جی ہاں، جمائی واقعی ایک “چھوت” کی طرح سمجھی جاتی ہے۔ بعض اوقات صرف اس لفظ کو پڑھ کر بھی لوگ جمائی لینے لگتے ہیں۔

بعض اوقات صرف اس لفظ کو پڑھ کر بھی لوگ جماہی لینے لگتے ہیں۔

سائنسدان ابھی تک مکمل وجہ نہ جان سکے

مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟یہ سوال اب تک سائنسدانوں کے لیے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

اسے عموماً سماجی اور جذباتی تعلق کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔کچھ ماہرین اسے دماغی نقل (برین ممی کری) بھی کہتے ہیں۔ جس میں انسان دوسروں کے رویے لاشعوری طور پر اپنا لیتا ہے۔

نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمائی جیسے چھوت والے رویے کا آغاز پیدائش سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئی۔تحقیق میں حاملہ خواتین کے جمائی لینے کے دوران ان کے تاثرات ریکارڈ کیے گئے۔ساتھ ہی الٹرا ساؤنڈ مشین کے ذریعے پیٹ میں موجود بچوں کے چہروں کی رئیل ٹائم تصاویر لی گئیں۔

بعد میں دونوں ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج میں دیکھا گیا کہ ماں کے جماہی لینے کے فوراً بعد بچے بھی جماہی لیتے ہیں۔

ماں کے فوراً بعد بچے کا ردعمل

نتائج میں دیکھا گیا کہ ماں کے جمائی لینے کے فوراً بعد بچے بھی جمائی لیتے ہیں۔یہ عمل تقریباً 90 سیکنڈ کے اندر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق حمل کے تقریباً 11 ہفتوں بعد بچے رحم میں جمائی لینا شروع کر دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے صرف اس وقت ردعمل دیتے ہیں جب ماں جمائی لیتی ہے۔
اگر ماں صرف منہ کھولے یا چہرہ ساکت رکھے تو بچے ایسا ردعمل نہیں دیتے۔

محققین کے مطابق یہ عمل ممکنہ طور پر ماں اور بچے کے ابتدائی تعلق کا حصہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کرپٹو کرنسی کے نام پر نئی لوٹ مار سامنے آگئی

ہنٹا وائرس: کروز جہاز سے مسافروں کا انخلا شروع

پہلے کی تحقیق کیا کہتی ہے؟

اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً 55 فیصد افراد صرف “جمائی” لفظ پڑھ کر ہی جماہی لینے لگتے ہیں۔

ٹیمپل یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جب لوگوں کو بار بار “یاوننگ” کہا جاتا ہے تو ان میں جماہی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *