الٹرا پراسیس غذائیں روزانہ کھانے سے امراضِ قلب، موٹاپے، ذیابیطس اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تحقیق
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اگر آپ روزانہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں تو یہ عادت امراضِ قلب اور قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہیں۔ ان میں نمک، چینی اور مصنوعی اجزا زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

کن غذاؤں کو الٹرا پراسیس کہا جاتا ہے؟
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک اور نمکو شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا بھی اسی فہرست میں آتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کو پہلے ہی کینسر، موٹاپے اور دیگر دائمی امراض سے جوڑا جا چکا ہے۔

امراضِ قلب اور موت کا خطرہ کتنا بڑھتا ہے؟
یورپین جرنل ہارٹ میں شائع تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کئی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
ان میں موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے دائمی امراض شامل ہیں۔ یہ تمام مسائل امراضِ قلب کی بڑی وجوہات سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں امراضِ قلب کا خطرہ 19 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
جبکہ امراضِ قلب سے موت کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ غذائیں دورانِ خون میں نقصان دہ چربی کے اجتماع کو تیز کرتی ہیں۔ اس سے مجموعی صحت مزید متاثر ہوتی ہے۔
قبل از وقت موت سے تعلق
جون 2025 میں برازیل کی ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی الٹرا پراسیس غذاؤں اور قبل از وقت موت کے درمیان تعلق سامنے آیا تھا۔
محققین کے مطابق ان غذاؤں کے استعمال میں ہر 10 فیصد اضافے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 8 ممالک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق امریکا وہ ملک ہے جہاں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی شہریوں میں ان غذاؤں کے باعث قبل از وقت موت کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں الٹرا پراسیس غذاؤں کو کینسر، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت 32 مختلف امراض سے منسلک کیا جا چکا ہے۔
حیاتیاتی عمر بھی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے
دسمبر 2024 میں آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال جسم کو قبل از وقت بڑھاپے کی جانب لے جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ غذائیں حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار تیز کر دیتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ہر فرد کی ایک حقیقی عمر ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک حیاتیاتی عمر بھی ہوتی ہے، جو جسمانی اور ذہنی افعال کی بنیاد پر دیکھی جاتی ہے۔
جینز، طرزِ زندگی اور خوراک جیسے عوامل حیاتیاتی عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حیاتیاتی عمر جتنی زیادہ ہو، بیماریوں کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کرپٹو کرنسی کے نام پر نئی لوٹ مار سامنے آگئی
پولیو بوسٹر مہم: سندھ میں خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا افتتاح
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
تحقیق میں 20 سے 79 سال کی عمر کے 16 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں میں ہر 10 فیصد اضافے سے حیاتیاتی عمر اور حقیقی عمر کے درمیان 2.4 ماہ کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
جو افراد اپنی روزانہ 68 سے 100 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں، وہ صرف 2 ماہ میں حیاتیاتی طور پر اپنی اصل عمر سے تقریباً ایک سال بڑے ہو جاتے ہیں۔
محققین نے زور دیا کہ پراسیس غذاؤں کا کم سے کم استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ان غذاؤں کے زیادہ استعمال سے حیاتیاتی عمر بڑھتی ہے۔
اس کے نتیجے میں قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 2 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ دائمی بیماریوں کا خطرہ 0.2 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔


