Bottled Water: A Growing Threat to Health, Environment and Climate Change

بوتل بند پانی میں مائیکرو پلاسٹکس، پلاسٹک آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خدشات پر ماہرین کی تشویش

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل

شدید گرمی میں پیاس بجھانے کے لیے پلاسٹک کی بوتل میں بند ٹھنڈا پانی اکثر محفوظ اور صحت بخش انتخاب سمجھا جاتا ہے، مگر نئی تحقیقات اور ماحولیاتی رپورٹس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بوتل بند پانی نہ صرف پلاسٹک آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ انسانی صحت اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 40 کروڑ ٹن سے زیادہ پلاسٹک پیدا کیا جاتا ہے، جس کا بڑا حصہ سنگل یوز مصنوعات اور پیکجنگ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق اگر پلاسٹک فضلہ موجودہ رفتار سے بڑھتا رہا تو 2060 تک اس کی مقدار تقریباً تین گنا ہو سکتی ہے۔

ان میں سے بڑی تعداد استعمال کے بعد کچرے کا حصہ بن جاتی ہے، جبکہ ری سائیکل ہونے والی بوتلوں کی شرح انتہائی کم ہے۔

بوتل بند پانی کا بڑھتا رجحان

عالمی سطح پر ہر منٹ تقریباً 10 لاکھ پلاسٹک بوتلیں خریدی جاتی ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد استعمال کے بعد کچرے کا حصہ بن جاتی ہے، جبکہ ری سائیکل ہونے والی بوتلوں کی شرح انتہائی کم ہے۔

پاکستان میں بھی گرمی کی شدت اور پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث بوتل بند پانی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور دیگر شہروں میں دکانوں، پٹرول پمپوں اور ٹھیلوں پر ہزاروں بوتلیں کھلے ماحول اور دھوپ میں رکھی نظر آتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں پلاسٹک بوتلوں سے بعض کیمیائی اجزا پانی میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

شدید گرمی اور مائیکرو پلاسٹکس کا مسئلہ

حالیہ سائنسی تحقیق نے بوتل بند پانی کے بارے میں نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔ 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک لیٹر بوتل بند پانی میں اوسطاً 2 لاکھ 40 ہزار تک مائیکرو اور نینو پلاسٹک ذرات موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں پلاسٹک بوتلوں سے بعض کیمیائی اجزا پانی میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں گرمی کی لہریں 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتی ہیں، وہاں یہ مسئلہ مزید تشویشناک ہو جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس میں موجود بعض کیمیکلز صحت کے سنگین مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں

انسانی صحت پر ممکنہ اثرات

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس میں موجود بعض کیمیکلز صحت کے سنگین مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں، جن میں ہارمونل تبدیلیاں، دماغی نشوونما پر اثرات اور سانس کی بیماریوں کے خطرات شامل ہیں۔

دیگر مطالعات میں مائیکرو پلاسٹکس کو درج ذیل ممکنہ خطرات سے بھی جوڑا گیا ہے: جسم میں سوزش، نظامِ ہاضمہ کی خرابی، دل اور خون کی نالیوں کے مسائل، تولیدی صحت پر منفی اثرات، ہارمونز کے نظام میں خلل اور جگر اور گردوں پر اضافی دباؤ۔

اگرچہ ان اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے، تاہم ماہرین احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔

سب سے زیادہ خطرے میں کون؟

صحت کے ماہرین کے مطابق درج ذیل طبقات نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں: بچے اور کم عمر افراد، حاملہ خواتین، بزرگ شہری اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد۔

کم آمدنی والے خاندان، جو کم معیار کے بوتل بند پانی پر انحصار کرتے ہیں، بھی اضافی خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بوتلوں کا مسئلہ صرف کچرے تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق پلاسٹک کی تیاری خام تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، اس لیے جتنی زیادہ پلاسٹک مصنوعات استعمال ہوں گی، اتنا ہی کاربن اخراج بڑھے گا۔

بوتل بند پانی کی بڑھتی ہوئی کھپت نہ صرف پلاسٹک آلودگی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بھی مزید شدید بنا رہی ہے۔

بعد ازاں یہی مائیکرو پلاسٹکس خوراک کی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

ماحول پر تباہ کن اثرات

اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال ایک کروڑ 90 لاکھ سے دو کروڑ 30 لاکھ ٹن پلاسٹک فضلہ دریاؤں، جھیلوں اور سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہو جاتا ہے۔

یہ پلاسٹک مچھلیوں، کچھوؤں، ڈولفنز اور سمندری پرندوں کی زندگی کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ جانور اکثر پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں، جس سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

بعد ازاں یہی مائیکرو پلاسٹکس خوراک کی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے تعلق

پلاسٹک کی تیاری کا انحصار بڑی حد تک تیل اور گیس پر ہے۔ ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی پیداوار، ترسیل اور تلفی کے مراحل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کرتے ہیں، جو عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کرتے ہیں۔

یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی گرمی میں اضافہ کر رہی ہے اور دوسری طرف پلاسٹک کا بڑھتا استعمال خود موسمیاتی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

ماہرین کی سفارشات

ماہرین ماحولیات اور صحت کے مطابق درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

پلاسٹک کی سنگل یوز بوتلوں کے استعمال میں کمی کی جائے

اسٹیل یا شیشے کی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں کو فروغ دیا جائے

بوتل بند پانی کی ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کی سخت نگرانی کی جائے

ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے

عوامی آگاہی مہمات شروع کی جائیں

پلاسٹک فضلے کے مؤثر انتظام کے لیے حکومتی پالیسیاں نافذ کی جائیں

نتیجہ

بوتل بند پانی وقتی سہولت ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے پیچھے صحت، ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑے کئی سنگین سوالات موجود ہیں۔

بڑھتی ہوئی گرمی، مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی اور پلاسٹک فضلے کے انبار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ صرف صارفین کا مسئلہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پلاسٹک کی بوتلیں ہماری صحت اور ماحول دونوں کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہو سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *