ایٹمی ذخائر رپورٹ: جنوبی ایشیا میں جوہری دوڑ جاری، عالمی سطح پر عدم توازن اور خطرات میں اضافہ
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
دنیا کے کل ایٹمی ذخائر کا 82 فیصد حصہ صرف روس اور امریکا کے پاس ہے۔
یہ انکشاف اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) کی نئی سالانہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں عالمی ایٹمی ہتھیاروں کی صورتحال، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری مقابلے اور بڑھتے ہوئے عالمی جنگی خطرات کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔

جنوبی ایشیا میں ایٹمی توازن
رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے پاس تقریباً 190 اور پاکستان کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے پاس زمین، فضا اور سمندر سے ایٹمی حملے کی صلاحیت یعنی نیوکلیئر ٹرائیڈ موجود ہے اور اس میں مسلسل توسیع بھی کی جا رہی ہے، تاہم دونوں کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

عالمی ایٹمی طاقتیں
رپورٹ کے مطابق روس 4 ہزار 380 اور امریکا 3 ہزار 700 وار ہیڈز کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہیں۔
اس کے بعد چین کے پاس 620، فرانس کے پاس 290، برطانیہ کے پاس 225، اسرائیل کے پاس تقریباً 90 اور شمالی کوریا کے پاس 60 وار ہیڈز موجود ہیں۔
وسعت پذیر ایٹمی دوڑ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔
یہ رجحان خطے میں اسٹریٹجک عدم توازن کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور عالمی خطرہ
رپورٹ میں یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ ایٹمی کمانڈ سسٹم میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا بڑھتا ہوا استعمال غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں عالمی سطح پر ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کم جونگ اُن کا میزائل فیکٹری دورہ، بڑا اشارہ؟
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ عالمی سطح پر ایٹمی طاقتوں کا ارتکاز چند ممالک تک محدود ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسابقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
