Elon Musk’s Key Prediction About AI

ایلون مسک کے مطابق آئندہ 4 سے 5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے اور معاشرے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے ایک اہم پیشگوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) بہت جلد انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔

ایلون مسک نے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ 4 سے 5 سال کے دوران اے آئی انسانی ذہانت سے بڑھ کر ہو سکتی ہے۔

اے آئی انسانی ذہانت سے آگے

ایلون مسک نے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ 4 سے 5 سال کے دوران اے آئی انسانی ذہانت سے بڑھ کر ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق اے آئی میں تیزی سے ہونے والی ترقی اسے اس سطح تک لے جا رہی ہے جہاں یہ انسانی ذہنی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کو بدلنے والی سب سے اہم ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ مختلف صنعتوں میں اے آئی پر انحصار بڑھ جائے گا۔ اس سے لاگت کم ہوگی جبکہ پیداوار اور افادیت میں اضافہ ہوگا۔

معاشرے میں بڑی تبدیلی کی پیشگوئی

ایلون مسک کے مطابق جدید ٹیکنالوجی معاشرے کے ڈھانچے کو تبدیل کر دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اے آئی پر مبنی مشینیں تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھائیں گی۔ اشیا کی تیاری آسان ہوگی اور خدمات زیادہ سستی اور ہر جگہ دستیاب ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان نما روبوٹس بہت جلد وہ کام کرنے کے قابل ہوں گے جو آج انسان انجام دیتے ہیں۔

صنعت اور معیشت پر اثرات

ایلون مسک نے کہا کہ مختلف صنعتوں میں اے آئی پر انحصار بڑھ جائے گا۔ اس سے لاگت کم ہوگی جبکہ پیداوار اور افادیت میں اضافہ ہوگا۔

ان کے مطابق اے آئی اور روبوٹکس سے عالمی معیشت میں غیر معمولی توسیع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

ایک دہائی بعد انگوٹھی واپس آخر کیسے ملی؟


لیکوڈ ٹری: فیصل آباد میں آلودگی کے خاتمے کیلئے جدید ٹیکنالوجی تیار

مستقبل کی جھلک

جنوری 2026 میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے اگلے 10 سال میں کیا ہوگا، لیکن موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے اے آئی سال کے آخر تک انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2030 یا 2031 تک اے آئی تمام انسانوں سے زیادہ اسمارٹ ہو سکتی ہے۔

ایلون مسک کے مطابق اگر سب کچھ اسی طرح جاری رہا تو آئندہ برسوں میں انسان نما روبوٹس عام زندگی کا حصہ ہوں گے اور بعض روبوٹس اے آئی کی مدد سے انسانی ضروریات پوری کریں گے۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب دنیا میں روبوٹس کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہو جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *