RY MEDIA TALKS

ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا، اموات 32 ہوگئیں

ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافہ، ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی کو خطرہ قرار دیا۔

ویب نیوز پورٹ: روبینہ یاسمین

ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں رواں سیزن میں اب تک 101 تصدیق شدہ کیسز اور 32 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

یہ تعداد سن 2018 کے بعد سب سے زیادہ قرار دی جا رہی ہے، جس نے عالمی صحت کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

A scientist in protective gear examining hantavirus samples beside a rodent as climate change and global health crisis imagery appear in the background.

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی تباہی، بڑھتی گرمی اور انسانی مداخلت ایسے وائرسز کو نئی جگہوں تک پھیلنے میں مدد دے رہی ہے۔

ہنٹا وائرس کیا ہے؟

ہنٹا وائرس ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں کے پیشاب، فضلے یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔

یہ بیماری ابتدا میں عام بخار، جسم درد اور کمزوری جیسی علامات پیدا کرتی ہے، لیکن بعد میں یہ پھیپھڑوں اور سانس کے شدید مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

کروز شپ سے عالمی تشویش میں اضافہ

ہنٹا وائرس اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب کروز شپ ایم وی ہونڈیس پر سفر کرنے والا ایک ڈچ جوڑا وائرس کے باعث ہلاک ہو گیا۔

یہ جہاز جنوبی ارجنٹینا کے شہر اُشوایا سے روانہ ہوا تھا اور اب اسپین کے کینری جزائر کی جانب بڑھ رہا ہے۔

چونکہ جہاز میں مختلف ممالک کے سیاح موجود ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر نئی عالمی وبا کے خدشات بھی گردش کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کووڈ-19 کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا۔

موسمیاتی تبدیلی کیسے وائرس پھیلا رہی ہے؟

صحت اور ماحولیات کے ماہرین کے مطابق

شدید گرمی

غیر معمولی بارشیں

خشک سالی

جنگلات میں آگ

جنگلی حیات کی نقل مکانی

ایسے عوامل ہیں جو وائرس پھیلانے والے چوہوں کی تعداد اور نقل و حرکت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحول میں تبدیلی کے باعث وہ علاقے بھی اب خطرناک بنتے جا رہے ہیں جہاں ماضی میں ہنٹا وائرس موجود نہیں تھا۔

کیا دنیا کو نئی وبا کا خطرہ ہے؟

ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس خطرناک ضرور ہے لیکن اس کا پھیلاؤ محدود ہوتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر قریبی اور طویل رابطے کے بغیر انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ’’یہ ایک اور کووڈ-19 نہیں ہے‘‘۔

ماہرین کی وارننگ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی تباہی پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں مزید خطرناک بیماریاں سامنے آ سکتی ہیں۔

عالمی ادارے حکومتوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ صحت، ماحولیات اور موسمیاتی پالیسیوں کو ایک ساتھ دیکھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ہنٹا وائرس کا بڑھتا خطرہ، اسکا پھیلاؤ اور بچاؤ سے متعلق اہم رپورٹ

کلاؤڈ جیگوار کی واپسی، بادلوں سے ڈھکے پہاڑوں میں تحفظ کی نئی امید

ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے کیسز صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کا واضح اشارہ بھی ہیں۔

یہ صورتحال دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر ماحول کو محفوظ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں انسانوں کو مزید مہلک وائرسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Exit mobile version