چقندر کا جوس: روزانہ ایک گلاس دل کی صحت، بلڈ پریشر کنٹرول اور نائٹرک آکسائیڈ میں اضافے کے لیے مؤثر قرار
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
چقندر کے جوس کا ایک گلاس روز پینا دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایکسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کا جوس دل کی صحت کے لیے توقعات سے زیادہ مفید قرار دیا گیا۔
تحقیق کے مطابق یہ جوس منہ میں موجود بیکٹیریا میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے، خاص طور پر معمر افراد میں۔
تحقیق کا طریقہ کار
اس تحقیق میں 30 سال سے کم عمر 39 افراد جبکہ 60 سے 80 سال کے درمیان 36 افراد کو شامل کیا گیا۔
تمام شرکا کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا۔
کلینیکل ٹرائل کے دوران رضاکاروں کو دو، دو ہفتوں کے الگ مراحل سے گزارا گیا۔
پہلے مرحلے میں انہیں نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کا جوس دیا گیا۔
دوسرے مرحلے میں انہیں اسی جوس کا پلیسبو ورژن استعمال کرایا گیا۔
نائٹریٹ اور جسم پر اثرات
نائٹریٹ ایک ایسا جز ہے جو کئی سبزیوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔
چقندر میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ پالک، سونف اور سلاد پتے میں بھی موجود ہوتا ہے۔
منہ میں موجود مخصوص بیکٹیریا غذائی نائٹریٹ کو ایسے مرکبات میں تبدیل کرتے ہیں جو نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
نائٹرک آکسائیڈ انسانی صحت کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔
تحقیق کے نتائج
تحقیق کے بعد شرکا کے منہ میں موجود بیکٹیریا کی جینوم سیکونسنگ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کا جوس پینے سے بیکٹیریا میں واضح تبدیلیاں آئیں۔
یہ تبدیلیاں معمر افراد میں زیادہ نمایاں تھیں۔
چقندر کا جوس پینے سے نقصان دہ بیکٹیریا کی تعداد میں کمی آئی۔
جبکہ فائدہ مند بیکٹیریا کی سطح میں اضافہ ہوا۔
بلڈ پریشر میں کمی
جن معمر افراد میں تحقیق کے آغاز میں بلڈ پریشر زیادہ تھا، ان میں جوس کے استعمال کے بعد نمایاں کمی دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق درمیانی عمر میں چقندر کے جوس کا استعمال بلڈ پریشر کے مسائل سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین نے بتایا کہ نائٹریٹ سے بھرپور غذا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
درمیانی عمر میں جسم میں نائٹریٹ کی سطح کم ہونے لگتی ہے جبکہ بلڈ پریشر بڑھنے لگتا ہے۔
ایسے میں چقندر کا جوس مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کہاں شائع ہوئی؟
اس تحقیق کے نتائج جریدے فری ریڈیکل بائیولوجی اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئے۔
سابقہ تحقیق کیا کہتی ہے؟
اس سے قبل جون 2022 میں برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی چقندر کے جوس کے فوائد سامنے آئے تھے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ ایک گلاس چقندر کا جوس دل کی شریانوں کے امراض میں نقصان دہ ورم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ورم اور دل کی بیماریوں کا تعلق
عام طور پر ورم جسم کو بیماری اور چوٹ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن دل کی شریانوں کے مریضوں میں یہ ورم مسلسل برقرار رہتا ہے۔
جس سے مزید شریانیں متاثر ہوتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نائٹرک آکسائیڈ کا کردار
محققین کے مطابق چقندر کا جوس جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بڑھاتا ہے۔
یہ عنصر ورم کو کم کرنے اور خون کی نالیوں کے افعال بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ میں انسدادِ ریبیز مہم کا آغاز
اے سی درجہ حرارت: 25.5 ڈگری کیوں ہے بہترین سیٹنگ؟ ماہرین کا انکشاف
مجموعی نتیجہ
نتائج سے معلوم ہوا کہ نائٹریٹ سے بھرپور مشروبات پینے والے افراد میں نائٹرک آکسائیڈ کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خون کی شریانوں کو بہتر بنانے والے خلیات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق چقندر کا جوس دل کی بیماریوں سے متاثر کروڑوں افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔