گدھوں کے ذریعے ذہنی تناؤ کا علاج، پیرس میں انوکھا طریقہ کامیاب، مریضوں کو سکون اور ڈپریشن میں واضح کمی دیکھنے گئی
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
پیرس:گدھوں کے ذریعے ذہنی تناؤ کا علاج ایک منفرد طریقہ بن کر سامنے آیا ہے۔
پیرس کے نواح میں ایک نفسیاتی ہسپتال میں روایتی ادویات کے ساتھ یہ نیا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

منفرد منصوبہ
امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ ہے۔
ویل ایورارڈ ہسپتال کے سرسبز ماحول اور 19ویں صدی کی عمارتوں میں قائم اس مرکز میں مریضوں کو پرسکون ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

علاج کا طریقہ کار
مریض یہاں موجود پانچ گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
وہ انہیں ٹہلاتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور نشست کے اختتام پر انہیں گلے لگاتے ہیں۔
یہ سرگرمیاں مریضوں کو ذہنی سکون فراہم کرتی ہیں۔
مریضوں کے تجربات
نتھالی، 60 سالہ مریضہ کہتی ہیں کہ یہ تجربہ سکون بخش دوا جیسا احساس دیتا ہے۔
ان کے مطابق یہ جانوروں کے ذریعے علاج ہے جو ذہنی دباؤ کم کرتا ہے اور انسان کو پریشانیوں سے دور لے جاتا ہے۔
جیروم، 52 سالہ مریض کے مطابق اس پروگرام نے ان کا اکیلا پن کم کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سے لوگوں سے بات چیت اور نئی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔

طبی عملے کی رائے
نرس آڈرے سیفار کے مطابق چند نشستوں کے بعد مریضوں میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک مریضہ جو وہیل چیئر سے اترنے کو تیار نہیں تھیں، اب گدھے کے ساتھ کھڑی ہو کر وقت گزارتی ہیں۔
منصوبے کا آغاز
یہ منصوبہ 2016 میں ارمیلیڈا اور فرانکوئس ہادی نے شروع کیا۔
ارمیلیڈا نفسیاتی امراض کی نرس ہیں جبکہ فرانکوئس نے گدھوں کو اس مقصد کے لیے تربیت دی۔
کچھ گدھوں کو پناہ گاہوں سے لایا گیا تھا۔

جانوروں کا کردار
فرانکوئس ہادی کے مطابق گدھا ایک ذہین اور حساس جانور ہے۔
یہ مریضوں کے جذبات کو سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرتا ہے۔
علاج کا دائرہ کار
اب اس پروگرام کو باقاعدہ طبی نگہداشت کے یونٹ کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
گدھوں کے ساتھ ساتھ مرغیاں، کبوتر، کچھوے اور خرگوش بھی شامل کیے گئے ہیں۔
یہ علاج بے چینی، ذہنی دباؤ، آٹزم اور شیزوفرینیا جیسے امراض میں مفید ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
نرسنگ کے طالب علم الیشیا فابی کے مطابق یہ طریقہ مریضوں اور طبی عملے کے درمیان مثبت گفتگو کو فروغ دیتا ہے۔
اس سے مریض خود کو ہلکا اور پُرسکون محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
گدھوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ
شارع فیصل پر ای چالان کی بارش
نتیجہ
ارمیلیڈا کے مطابق یہ طریقہ دوا کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون علاج ہے۔
یہ مریضوں کا اعتماد بحال کرتا ہے اور ان کی روزمرہ عادات کو بہتر بناتا ہے۔
تاہم اس طریقہ علاج کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔