آبنائے ہرُمز کشیدگی میں اضافہ، کیا اس اہم گزرگاہ کی بندش دنیا کو نئے تیل بحران اور مہنگائی کی لہر میں دھکیل دے گی؟
ویب نیوز رپورٹ
امریکا کی جانب سے آبنائے ہرُمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ نتیجتاً توانائی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا ہو گئی۔
اسی تناظر میں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 7 ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یوں قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ادھر امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) بھی مہنگا ہو گیا۔ اس کی قیمت تقریباً ساڑھے 6 ڈالر بڑھ کر 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس طرح دونوں بڑی آئل بینچ مارکس میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

شپنگ اور انشورنس بحران
دوسری جانب خلیج میں چلنے والے بحری جہازوں پر انشورنس پریمیئم میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انشورنس لاگت ایک ہزار فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 15 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل بردار جہاز کو اب 75 لاکھ ڈالر تک انشورنس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ چنانچہ شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

متبادل توانائی کی طرف رجحان
تاہم دوسری جانب دنیا میں تیل کے متبادل توانائی ذرائع کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے چین نمایاں طور پر آگے نکل گیا ہے۔ مزید یہ کہ متبادل توانائی پیدا کرنے والی چینی کمپنیوں کی برآمدات میں 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کیا پاکستان میں پائیدار ٹرانسپورٹ کا خواب حقیقت بننے جا رہا ہے؟
امتحانی مراکز کی تبدیلی: میرٹ کی جیت یا دباؤ کا اثر؟
اوپیک کا خدشہ
دریں اثنا تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی تنظیم اوپیک (آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) نے ایک خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق، عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمی آ سکتی ہے۔ لہٰذا ماہرین توانائی مارکیٹ کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

