سندھ میں کتے کے کاٹنے کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، کیا آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور ویکسین کی کمی نے صورتحال کو خطرناک حد تک سنگین بنا دیا؟
ویب نیوز رپورٹ
سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ رواں سال اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔

اسپتالوں میں روزانہ درجنوں کیسز
کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جناح اسپتال میں یومیہ 50 سے 60 کیسز آتے ہیں۔ سول اسپتال میں یہ تعداد 60 سے زائد ہے ۔
اسی طرح انڈس اسپتال میں بھی روزانہ تقریباً 80 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔

ہزاروں کیسز کی رپورٹ
اسپتال انتظامیہ کے مطابق کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متاثرہ افراد بڑی تعداد میں علاج کے لیے اسپتال پہنچ رہے ہیں ۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں رواں سال 6 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ جناح اسپتال میں یہ تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔
ماہرین کی تشویش
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد نے خطرہ مزید بڑھا دیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق بروقت ویکسین نہ لگائی جائے تو ریبیز ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں
نقل کرنے والے طلبہ پر تاحیات پابندی، سندھ میں سخت امتحانی پالیسی نافذ
کل کیا ہونے والا ہے؟ جنگ سے متعلق تازہ اور اہم بیان سامنے آگیا
انتظامی اقدامات پر سوال
دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں قابو کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اسی وجہ سے عوام میں تشویش مزید بڑھتی جا رہی ہے ۔

