April 23, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
خلیجِ فارس میں تیل رساؤ آخر کتنا خطرناک ہو چکا ہے؟
How dangerous has this oil spill in the Persian Gulf become?

خلیجِ فارس میں تیل رساؤ آخر کتنا خطرناک ہو چکا ہے؟

خلیجِ فارس میں بڑھتا ہوا تیل رساؤ کیا واقعی ایک بڑی ماحولیاتی آفت میں تبدیل ہو رہا ہے؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد خلیجِ فارس میں تیل کی تنصیبات اور بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نتیجتاً مختلف مقامات پر تیل کا رساؤ (تیل کا پھیلاؤ) واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے، حتیٰ کہ فضاء سے بھی۔

ماہرین نےخلیجِ فارس میں اس صورتحال کو ممکنہ ماحولیاتی تباہی قرار دیا ہے۔

اسی طرح سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خطے میں وسیع ماحولیاتی نقصان سامنے آیا ہے

سیٹلائٹ تصاویر سے بڑے پیمانے پر نقصان کا انکشاف

اسی طرح سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خطے میں وسیع ماحولیاتی نقصان سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر خلیجِ فارس کی نازک حیاتیاتی تنوع شدید خطرے میں ہے۔
مزید یہ کہ ماہرین کے مطابق سمندر میں پھیلنے والا تیل ساحلی آبادیوں، روزگار اور سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

قشم اور آبنائے ہرمز میں تیل کا بڑا رساؤ

اسی دوران 7 اپریل کی ایک تصویر میں ایران کے جزیرہ قشم کے قریب آبنائے ہرمز میں پانچ میل سے زیادہ پھیلا ہوا تیل کا رساؤ دیکھا گیا۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکی افواج کے حملے کے بعد اسی علاقے میں ایرانی بحری جہاز “شہید باقری” سے بھی تیل کا اخراج ہوا۔

اسی طرح ایک اور سیٹلائٹ تصویر میں جزیرہ لاوان کے گرد تیل پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے

لاوان جزیرے کے گرد صورتحال مزید سنگین

اسی طرح ایک اور سیٹلائٹ تصویر میں جزیرہ لاوان کے گرد تیل پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق 7 اپریل کو ’’دشمنوں کے حملے‘‘ میں قریبی تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید برآں سی این این کی جیو لوکیٹ کی گئی ویڈیو میں تیل صاف کرنے والے پلانٹ میں بڑی آگ دیکھی گئی۔

نتیجتاً تیل سمندر میں پھیل کر محفوظ علاقے شیدور جزیرے تک پہنچ رہا ہے

شیدور جزیرے تک خطرے کی پیش رفت

ادھر ڈچ امن تنظیم پی اے ایکس کے محققین کے مطابق کم از کم پانچ مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ نتیجتاً تیل سمندر میں پھیل کر محفوظ علاقے شیدور جزیرے تک پہنچ رہا ہے۔

یہ جزیرہ مرجانوں، سمندری پرندوں اور کچھوؤں کے لیے اہم مسکن ہے۔

کویت کے ساحل کے قریب بھی رساؤ

اسی تسلسل میں مزید سیٹلائٹ تصاویر میں 6 اپریل کو کویت کے ساحل کے قریب بھی تیل کا رساؤ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی انقلابی گارڈز نے خلیجی ممالک میں تیل اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی تسلسل میں مزید سیٹلائٹ تصاویر میں 6 اپریل کو کویت کے ساحل کے قریب بھی تیل کا رساؤ دیکھا گیا ہے

انسانی اور ماحولیاتی اثرات

ماہرین کے مطابق بدترین صورتحال میں یہ آلودگی ہزاروں افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ تیل کچھوؤں، ڈولفن اور وہیلز کے لیے بھی خطرناک ہے۔ یہ جاندار تیل نگل سکتے ہیں یا اس میں پھنس سکتے ہیں۔

پانی کی فراہمی کو خطرہ

مزید یہ کہ یہ آلودگی سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ان پر خطے کے تقریباً 10 کروڑ افراد انحصار کرتے ہیں۔

ماہرین کی وارننگ

ماہرین کے مطابق فی الحال مکمل نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو ماحولیاتی تباہی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

خلیج میں تقریباً 75 بڑے آئل ٹینکرز موجود ہیں۔ ان میں اربوں لیٹر خام تیل ذخیرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں فلوٹنگ جیٹی، کیامنظر واقعی یورپ جیسا ہے؟

کراچی میں فلوٹنگ جیٹی، کیامنظر واقعی یورپ جیسا ہے؟

گرین پیس کا مؤقف

آخر میں ماحولیاتی تنظیم “گرین پیس” کے مطابق تیل کا رساؤ پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ نتیجتاً خرد حیاتیات، مچھلیاں، پرندے اور کچھوے سب متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جاری تنازعے کے باعث صفائی اور بحالی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×