روسی گھریلو کھانوں کے منفرد ذائقے، خاندانی روایات اور صحت مند طرزِ زندگی کے راز جانیے۔ آخر روس کے لوگ گھر کا کھانا کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
روس کے لوگ دنیا میں ان افراد میں شمار ہوتے ہیں جو گھر کا کھانا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ درحقیقت اس بات کی تصدیق ایک بڑی بین الاقوامی ویب سائٹ آل ریسپیز کی رائے شماری سے ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ نتائج کے مطابق روسی شہری متوازن غذا کو ترجیح دیتے ہیں اور باہر سے تیار شدہ کھانا گرم کر کے کھانے کو پسند نہیں کرتے۔
اسی کے ساتھ ساتھ روس میں خاندانی روایت آج بھی برقرار ہے۔ گھروالے ایک بڑی میز کے گرد جمع ہو کر کھانا کھاتے ہیں اور یوں باہمی گفتگو بھی کرتے ہیں۔

روس میں گھر کے کھانے کی اہمیت
خاندانی نظام پر مثبت اثرات
کھانا بنانے کی ترکیبوں کے ماہر سٹالک خانکیشییف کا کہنا ہے کہ گھر میں کھانا تیار کرنا نہایت مفید عمل ہے۔ کیونکہ اس سے خاندان کے افراد میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
مزید برآں ان کے مطابق کنبہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ چولہا اور کھانے کی میز اس بنیاد کو مضبوط بناتے ہیں۔ نتیجتاً یہی روایات معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

عالمی رجحان اور اعداد و شمار
خاندانی روایات اور کھانے کی میز
ماہرین عمرانیات کے مطابق گھر کا کھانا پسند کرنے والے ممالک میں روس اور پولینڈ سرفہرست ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس جرمنی اور کینیڈا میں گھریلو کھانے کا رجحان کم ہے۔
تاہم رواں سال دنیا بھر میں گھر میں کھانا پکانے کا رجحان مزید مستحکم ہوا ہے۔ اسی تناظر میں روس میں ہونے والی حالیہ رائے شماری کے 80 فیصد شرکاء نے کہا کہ گھر کے کھانے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ مزید یہ کہ ان کا کہنا تھا کہ یہ صحت کے لیے مفید ہے اور اس کی تیاری بھی انہیں پسند ہے۔

خواتین اور نوجوانوں کی ترجیحات
محققین کے مطابق ہوٹل میں کھانا کھانے کے شوقین افراد میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ باہر کھانے سے گھر میں کھانا بنانے کی زحمت نہیں رہتی۔
دوسری جانب عمر کے لحاظ سے بھی واضح فرق سامنے آیا۔ 34 سال سے کم عمر افراد میں آدھے سے کم لوگوں نے گھر کے کھانے کو ترجیح دی۔ جبکہ 45 سال سے زائد عمر کے 89 فیصد افراد گھریلو کھانے کے حامی نکلے۔

نوجوانوں کا بدلتا ہوا فوڈ کلچرذوق
روسی جریدے غذا کے مدیر اعلیٰ اور معروف باورچی الیکسی زیمن کے مطابق نوجوان نئی اقسام کے کھانے آزمانا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ دوستوں کے ساتھ ریستوران جا کر مختلف ثقافتوں کے کھانے چکھتے ہیں۔
مزید برآں ان کے بقول یہ ایک عالمی رجحان ہے جہاں مختلف تہذیبیں آپس میں گھل مل رہی ہیں، خاص طور پر کھانے کی روایات میں۔ چنانچہ نوجوان نئی غذاؤں، لباس اور موسیقی میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سندھڑی آم اس بار ایکسپورٹ نہیں ہوگا؟
سندھ کی درگاہوں پر پہلی بار اب خواتین ‘مینیجر اوقاف’ تعینات ہوں گی
شادی شدہ اور غیر شادی شدہ افراد کا فرق
اعداد و شمار کے مطابق غیر شادی شدہ افراد ریستوران میں کھانا کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس زیادہ تر شادی شدہ افراد گھر پر کھانا کھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ شادی شدہ مردوں کا کہنا ہے کہ ان کی بیویاں بہترین کھانا تیار کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ بات باعث تعجب نہیں کہ غیر شادی شدہ روسی مردوں کی بڑی تعداد ایسی شریک حیات کی خواہش رکھتی ہے جو معیاری کھانا بنا سکے۔


