آبنائے ہرمز پر ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن امریکی فوج کی موجودگی نہیں بلکہ علاقائی خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خاتمے سے ممکن ہے
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
تہران: ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بحرین میں امریکا کی قیادت میں ہونے والے علاقائی سکیورٹی اجلاس پر شدید تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے اختیار میں ہے، امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحرین میں ہونے والا فوجی اجلاس خلیج فارس میں نہ تو قانونی نظام قائم کر سکتا ہے اور نہ ہی سکیورٹی یقینی بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام امریکی فوج کے زیرِ سایہ رہنے سے نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب علاقائی ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، نئی جغرافیائی حقیقتوں کو تسلیم کیا جائے، خطے سے امریکی فوج کا انخلا ہو اور اس کی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں
خاندان سے بچھڑنے والا شخص 35 سال بعد بھائی کے ذریعے شناخت ہو گیا
نمبوڑا نمبوڑا نصابی کتاب میں شامل، بھارت میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا
امریکی مؤقف
دوسری جانب امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے مطابق بحرین میں امریکا کی قیادت میں 12 ممالک کے فوجی سربراہان کا علاقائی اجلاس منعقد ہوا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
