ووہان میں انسان نما روبوٹس کی حیران کن پیش رفت سامنے آگئی، جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا، پاکستان وفد نے بھی مشاہدہ کیا
شِنہوا
چین کے وسطی صوبے ہوبے کے شہر وُوہان میں اس مرتبہ ایک غیر معمولی اور نہایت جدید منظر دیکھنے کو ملا۔ پاکستان کے میڈیا اور تھنک ٹینک کے 12 رکنی وفد نے انسان نما روبوٹس کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
انہوں نے صنعتی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر کام کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ دورہ 18 اپریل سے 28 اپریل تک جاری چین کے مطالعاتی سفر کا اہم حصہ تھا۔

روبوٹس سے دلچسپ مکالمہ اور “گوانگ زی” کی کہانی
انسان نما روبوٹ اختراعی مرکز میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ آزاد ڈیجیٹل میڈیا کی اینکر راشدہ شوکت سیال نے ایک روبوٹ سے بات کی۔ انہوں نے اسے احتیاط سے مخاطب کیا اور اس کا نام ’’گوانگ زی‘‘ پکارا۔ اس کا مطلب ’’فوٹون‘‘ ہے۔
جیسے ہی گفتگو شروع ہوئی، روبوٹ کی آنکھوں کی روشنی بدل گئی۔ وہ مسکراہٹ جیسی شکل اختیار کر گئی۔ اس منظر نے ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
انہوں نے روبوٹ سے کئی سوالات کیے۔ سوالات میں پاکستان، بریانی اور پاک چین تعلقات شامل تھے۔ روبوٹ نے ایک ایک کر کے جواب دیے۔ وفد کے ارکان اس دوران ہنستے رہے۔ وہ حیرت کے ساتھ سب کچھ ریکارڈ بھی کرتے رہے۔
روانگی سے قبل راشدہ شوکت سیال نے روبوٹ سے مصافحہ کیا۔ انہوں نے الوداعی اشارہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ “گوانگ زی اب میرا نیا دوست ہے۔”

انسان نما روبوٹس کا عملی استعمال
وفد نے یہ بھی دیکھا کہ روبوٹس اب عملی زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہے۔
چائنا آپٹکس ویلی کے ہوبے روبوٹ مرکز میں جدید مشینیں کام کر رہی تھیں۔ روبوٹک بازو سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔ سروس روبوٹس گھریلو اشیاء ترتیب دے رہے تھے۔
کھانا بنانے والے روبوٹس مختلف پکوان تیار کر رہے تھے۔ گشت کرنے والے روبوٹس ماحولیاتی ڈیٹا بھیج رہے تھے۔ اس سے نظام کی جدیدیت واضح ہو گئی۔
بیورو چیف محمد عارف نے کہا کہ روبوٹس اب روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بارسٹا روبوٹ میں خاص دلچسپی بھی ظاہر کی۔

ٹیکنالوجی اور مستقبل کے امکانات
اسلام آباد کے سینٹر برائے خلائی اور سیکیورٹی اسٹڈیز کے شہیر احمد نے مرکز کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اسے چین کی تیز رفتار ترقی کا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں روبوٹس کا استعمال مزید بڑھے گا۔ یہ دفاع، صحت اور سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس تجربے کو مفید تعلیمی موقع بھی کہا۔
وُوہان یانگ لو بندرگاہ کا دورہ
وفد نے وُوہان یانگ لو بندرگاہ کا بھی دورہ کیا۔ یہ دریائے یانگسی کا اہم کنٹینر مرکز ہے۔ یہاں مکمل خودکار نظام کام کر رہا تھا۔
بغیر ڈرائیور ٹرک منظم قطاروں میں چل رہے تھے۔ بڑی کرینیں خودکار نظام سے کنٹینرز اٹھا رہی تھیں۔ کنٹرول روم سے کئی مشینیں ایک ساتھ چلائی جا رہی تھیں۔
مصنوعی ذہانت پورے نظام کی نگرانی کر رہی تھی۔ راشدہ شوکت سیال نے کہا کہ یہ نظام کراچی بندرگاہ سے زیادہ جدید ہے۔ انہوں نے اسے لاجسٹکس کے لیے اہم ماڈل قرار دیا۔
زرعی شعبے میں پاکستان چین تعاون
زرعی شعبہ بھی اس دورے کا اہم حصہ تھا۔ وفد نے چنگ فہ شینگ سیڈ کمپنی کا دورہ کیا۔ وہاں ہائبرڈ چاول اور کینولا پر بریفنگ دی گئی۔
کمپنی نے بتایا کہ پاکستان چاول کی برآمدات میں ترقی کر رہا ہے۔ کینولا کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے۔ 2025 تک اس کا رقبہ 25 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ چکا ہے۔
لاہور میں تعاون مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ وہاں کسانوں کو جدید تربیت دی جا رہی ہے۔ عدنان افتخار نے کہا کہ بہتر بیج سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تعاون کو گندم اور گنے تک بڑھانے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں
پانی کے تنازعہ نے 42 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا
چین میں پاکستانی نوجوان کی زرعی تعلیم، کیا ملکی پیداوار بڑھے گی؟
اسکائی ریل اور اختتامی لمحات
وفد نے وُوہان کے اسکائی ریل نظام کا بھی مشاہدہ کیا۔ 270 درجے کے نظاروں نے شہر کی خوبصورتی دکھائی۔
میر سلام خان جوگیزئی نے اس تجربے کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے مستقبل میں خاندان کے ساتھ دوبارہ آنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔


