یوگنڈا کا مطالبہ، کیا نیا تنازع جنم لینے والا ہے؟
اہم اسٹوریز اہم خبریں دنیا گھومو

یوگنڈا کا مطالبہ، کیا نیا تنازع جنم لینے والا ہے؟

Uganda’s Demand: Is a New Conflict About to Emerge?

یوگنڈا کے آرمی چیف کے متنازع بیان نے عالمی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیا یہ معاملہ ترکیہ کے ساتھ سفارتی کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے؟

ویب نیوز رپورٹ

افریقی ملک یوگنڈا کے صدر یووری موسیوینی کے صاحبزادے اور چیف آف ڈیفنس فورسز مہوزی کائنروگابا نے ترکیہ سے ایک ارب ڈالر اور شادی کے لیے ترکیہ کی ’’سب سے خوبصورت خاتون‘‘ کے رشتے کا مطالبہ کیا ہے۔ نتیجتاً یہ بیان بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقائی سلامتی کی کوششوں میں یوگنڈا کے کردار کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس لیے ان کے مطابق مالی معاوضہ واجب الادا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی سکیورٹی یوگنڈا گزشتہ کئی سالوں سے فراہم کر رہا ہے

سوشل میڈیا بیان اور الزامات

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ترکیہ صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں جیسے منصوبوں سے بھاری منافع حاصل کر رہا ہے ۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی سکیورٹی یوگنڈا گزشتہ کئی سالوں سے فراہم کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ملک کو کوئی مناسب فائدہ نہیں ملا ۔

فوجی تعیناتی کا پس منظر

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یوگنڈا گزشتہ دو دہائیوں سے افریقی یونین مشن کے تحت صومالیہ میں فوجی تعینات کیے ہوئے ہے ۔

نتیجتاً یہ فوجی دستے عسکریت پسند گروپ الشباب کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں ۔

یوگنڈا گزشتہ دو دہائیوں سے افریقی یونین مشن کے تحت صومالیہ میں فوجی تعینات کیے ہوئے ہے

سفارتی دھمکی

مہوزی کائنروگابا نے ترکیہ کو سخت دھمکی بھی دی ہے۔ اگرچہ یہ مطالبات غیر معمولی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو یوگنڈا ترکیہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر دے گا ۔

مزید یہ کہ انہوں نے کمپالا میں موجود ترک سفارتخانہ 30 دن کے اندر بند کرنے کا بھی عندیہ دیا ۔

یہ بھی پڑھیں

آبنائے ہرُمز کی بندش: کیا دنیا میں تیل کا نیا بحران آنے والا ہے؟

عوام کے لیے انتباہ

اسی دوران انہوں نے یوگنڈا کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ حفاظتی وجوہات کے باعث ترکیہ کا سفر نہ کریں ۔

پس منظر

واضح رہے کہ مہوزی کائنروگابا یوگنڈا پیپلز ڈیفنس فورسز کے سربراہ ہیں ۔ دریں اثنا وہ سوشل میڈیا پر اپنے بے باک اور اکثر متنازع بیانات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×