April 16, 2026
Office no.47, 3rd floor، Building, Abdullah Haroon Road Saddar, Karachi, Pakistan Postal Code : 74400
غیر معمولی گرم بہار کے اثرات، خشک سالی میں تیزی سے اضافہ
اہم اسٹوریز اہم خبریں دنیا گھومو

غیر معمولی گرم بہار کے اثرات، خشک سالی میں تیزی سے اضافہ

Unusual warm spring effects, rapid increase in drought conditions

غیر معمولی گرم بہار اور بڑھتی ہوئی خشک سالی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا، پانی کے بحران میں اضافہ، ماہرین نے مزید خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔

ویب نیوز رپورٹ : روبینہ یاسمین

امریکا کی ریاست کولوراڈو میں غیر معمولی خشک بہار ماحول اور قدرتی مناظر کو بدل رہی ہے۔ خشک سالی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسی دوران بڑے شہروں نے پانی کے استعمال پر ابتدائی پابندیوں کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسی لیے حکام شہریوں سے پانی کے زیادہ استعمال میں کمی کی اپیل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گھروں کے سبز لان کو کم پانی دینے کا کہا جا رہا ہے۔

اس وقت ریاست کا تقریباً نصف حصہ شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سال 2026 کے آغاز میں کولوراڈو میں شدید خشک سالی تقریباً موجود نہیں تھی۔ تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے۔

اپریل میں خشک سالی کی شدت پانچ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مزید برآں یہ دو دہائیوں میں اپریل کا بدترین بحران بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

کولوراڈو ماضی میں بھی خشک سالی کا سامنا کرتا رہا ہے

غیر معمولی گرمی اور خشکی

کولوراڈو ماضی میں بھی خشک سالی کا سامنا کرتا رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال مختلف ہے۔ اس بار اوسط سے زیادہ خشکی کے ساتھ غیر معمولی گرمی بھی ریکارڈ ہوئی ہے۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے مطابق، موسم بہار کے آغاز میں درجہ حرارت میں واضح اضافہ ہوا۔ نتیجتاً پانی کے ذخائر کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اورورا واٹر کی ترجمان شونی کلائن کے مطابق یہ سال لوگوں کو پانی کی اصل قدر سکھائے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سن 2027 کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کولوراڈو اور ماؤنٹین ویسٹ خطہ اس وقت دو بڑے مسائل سے دوچار ہے

برفباری میں تاریخی کمی

ماہرین کے مطابق، کولوراڈو اور ماؤنٹین ویسٹ خطہ اس وقت دو بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ ایک جانب برفباری بہت کم ہوئی ہے۔ دوسری جانب مارچ میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔

ڈینور واٹر کے ترجمان ٹوڈ ہارٹ مین کے مطابق، ریاست ریکارڈ کی کم ترین برفباری کے ساتھ بہار اور گرمیوں میں داخل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچاس برس کے ریکارڈ میں برف کا ذخیرہ کبھی اتنا کم نہیں دیکھا گیا۔

کولوراڈو میں پانی کی فراہمی کا بڑا حصہ برف پگھلنے سے آتا ہے۔ یہ پانی دریاؤں اور معاون ندیوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیموں میں موجود ذخائر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

پانی بچانے کے لیے ڈینور شہر نے ریسٹورنٹس کو نئی ہدایات دی ہیں

پانی بچانے کے لیے اقدامات

ریاست بھر کے شہر اس صورتحال کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ درحقیقت سال کا سب سے خشک دور ابھی باقی ہے۔

پانی بچانے کے لیے ڈینور شہر نے ریسٹورنٹس کو نئی ہدایات دی ہیں۔ اب گاہکوں کو صرف درخواست پر پانی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہریوں کو کمرشل کار واش استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

تاہم سب سے زیادہ پانی گھروں کے باہر استعمال ہوتا ہے۔ لان اور باغات کو پانی دینا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی لیے ممکنہ پابندیاں بھی اسی شعبے پر لگ سکتی ہیں۔

اورورا میں بیرونی پانی کا استعمال مجموعی طلب کا 40 سے 60 فیصد ہے۔ جبکہ قریبی قصبے ایری میں یہ شرح 60 سے 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

پانی کے منتظمین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ “کینٹکی بلیو گراس” ہے

امریکی لان کا مسئلہ

پانی کے منتظمین کے مطابق، سب سے بڑا مسئلہ ’’کینٹکی بلیو گراس‘‘ ہے۔ یہ گھاس امریکا میں لان کے لیے بہت مقبول ہے۔ یہ گھاس اصل میں کینٹکی کی مقامی ہے، تاہم کولوراڈو کے خشک علاقوں کے لیے موزوں نہیں۔

یوں تو یہ گھاس گھنی اور خوبصورت سبز تہہ بناتی ہے، اسی لیے گھروں اور کھیل کے میدانوں میں استعمال ہوتی ہے۔ تاہم اس خوبصورتی اور شبز تہہ کے لئے اسے بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔

اس گھاس کو سبز رکھنے کے لیے تقریباً 17اعشاریہ 5 گیلن پانی فی مربع فٹ درکار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی شہروں نے اس گھاس کے استعمال پر پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔

نئی رہائشی تعمیرات میں اسے لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر مقامی گھاس اور پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تاہم کچھ شہری اس کے برعکس زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں

شہریوں میں خوف اور پانی کا بڑھتا استعمال

حکام پانی کے استعمال میں کمی چاہتے ہیں۔ تاہم کچھ شہری اس کے برعکس زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔

اورورا واٹر کے مطابق، کچھ ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے فروری میں ہی اسپرنکلر سسٹم چلا دیئے تھے۔

حکام شہریوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ مئی سے پہلے لان کو پانی نہ دیں۔ تاہم غیر معمولی گرمی کے باعث لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان کی گھاس مر جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

ایران امریکہ مذاکرات: کیا اس بار ڈیڈلاک ختم ہو سکے گا؟

مینوپاز مصنوعات کا طوفان، کیا خواتین نشانے پر ہیں؟

ہنگامی انتباہ اور بدلتا منظر

ایری میں مارچ کے دوران پانی کی طلب اچانک بڑھ گئی۔ لوگوں نے اپنے لان کو بچانے کے لیے زیادہ پانی دینا شروع کر دیا تھا۔

نتیجتاً شہر اور کاؤنٹی حکام کو ہنگامی انتباہ جاری کرنا پڑا۔ شہریوں سے لان کو پانی دینا فوری بند کرنے کی اپیل کی گئی۔

ماہرین کے مطابق، بہار میں بھوری نظر آنے والی گھاس مردہ نہیں ہوتی۔ دراصل یہ عارضی طور پر غیر فعال حالت میں ہوتی ہے۔

کم پانی دے کر اسے گرمیوں میں اسی حالت میں رکھا جا سکتا ہے۔ بعد میں خزاں میں یہ دوبارہ سبز ہو سکتی ہے۔

تاہم اب کئی شہری اپنے روایتی لان ختم کر رہے ہیں۔ وہ مقامی پودوں اور جھاڑیوں پر مشتمل ’’واٹر وائز‘‘ باغات بنا رہے ہیں۔ نتیجتاً کئی شہروں میں گھروں کے سامنے کا منظر آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×