Cancer vaccine breakthrough: patients’ tumors begin to disappear.

کینسر ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کے حیران کن نتائج سامنے آگئے، 11 ممالک میں جاری تحقیق نے ماہرین کو مستقبل کے حوالے سے پُرامید

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی مؤثر ویکسین کی تیاری میں طبی ماہرین نے اہم پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔

اس ویکسین کا کلینیکل ٹرائل 11 ممالک میں جاری ہے اور اب تک کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا قرار دیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ویکسین بعض مریضوں میں رسولیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

کلینیکل ٹرائل کے دوران متعدد مریضوں کی رسولیاں مکمل طور پر گھل کر ختم ہوگئیں۔

کینسر: کلینیکل ٹرائل کے مثبت نتائج

یہ ویکسین انجیکشن کے ذریعے ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جن کا کینسر جسم میں پھیل چکا ہو یا علاج کے بعد دوبارہ ظاہر ہو گیا ہو، جبکہ دیگر طریقہ علاج ناکام ثابت ہو چکے ہوں۔

“امیوانٹاماب” نامی یہ ویکسین مریضوں کے جسم میں موجود رسولی کو ایک تہائی سے زیادہ سکیڑ دیتی ہے اور چند ہی ہفتوں میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔

کلینیکل ٹرائل کے دوران متعدد مریضوں کی رسولیاں مکمل طور پر گھل کر ختم ہوگئیں۔

ان کے مطابق اس ویکسین سے ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

کینسر: ماہرین نتائج سے حیران

برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ (آئی سی آر) کے پروفیسر کیون ہیرنگٹن نے کہا کہ یہ حیرت انگیز نتائج ان مریضوں میں بھی دیکھنے میں آئے جن کے جسم کیموتھراپی اور امیونوتھراپی کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرائل میں شامل بعض مریضوں کے لیے علاج کے مواقع انتہائی محدود تھے، اس لیے اس سطح کا فائدہ واقعی غیر معمولی اور حیران کن ہے۔

ان کے مطابق اس ویکسین سے ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

کینسر کے 102 مریضوں پر آزمائش

اس ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کے نتائج امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ ایک کینسر کانفرنس کے موقع پر پیش کیے گئے۔

اس تحقیق میں مجموعی طور پر 102 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جو سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا تھے۔

یہ کینسر دنیا میں چھٹی سب سے عام قسم شمار کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران ویکسین استعمال کرنے والے 43 مریضوں کی رسولیاں یا تو نمایاں طور پر سکڑ گئیں یا مکمل طور پر غائب ہوگئیں۔

محققین نے بتایا کہ پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں بھی اسی نوعیت کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

اس ویکسین پر اب تک 60 کلینیکل ٹرائلز مکمل کیے جا چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر اسے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم مستقبل میں اسے آنتوں، دماغ اور معدے کے کینسر کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ ویکسین تین مختلف طریقوں سے کینسر کو نشانہ بناتی ہے۔

یہ کینسر پھیلانے والے ریسیپٹر کو بلاک کرتی ہے، اس پروٹین کو روکتی ہے جو رسولی کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جبکہ کینسر زدہ خلیات کے سگنلنگ راستوں کو بھی بند کر دیتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہے تاکہ وہ رسولی پر مؤثر حملہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ کے خلاف پی ٹی آئی ارکان کی ناراضی بڑھنے لگی

تمباکو سے پاکستان میں روزانہ سینکڑوں اموات

مضر اثرات: معمولی سے معتدل

محققین کے مطابق ویکسین انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے، جس کے باعث اس کے اثرات نسبتاً جلد ظاہر ہوتے ہیں اور متعدد مریضوں کے لیے اس کا استعمال زیادہ سہل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ویکسین کے مضر اثرات عموماً معمولی سے معتدل نوعیت کے ہیں، جس کی وجہ سے اسے کینسر کے علاج میں ایک امید افزا پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *