وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق گورننس، امن و امان، فنڈز کی تقسیم اور کابینہ توسیع پر ارکان اسمبلی کے تحفظات سامنے آگئے
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے زائد ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی سے ناخوش بتائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کا مؤقف ہے کہ صوبے میں گورننس اور امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بیوروکریسی سے اپنی بات منوانے میں کامیاب نہیں ہو رہے اور متعدد افسران صوبائی حکومت کے بجائے وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

ارکان اسمبلی کے تحفظات
ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کا شکوہ ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ اپنے تحفظات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے، تاہم ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
ارکان اسمبلی کو فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور صوبائی کابینہ میں توسیع کے معاملے پر بھی تحفظات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تحفظات اور آئندہ حکمت عملی پر غور کے لیے ناراض ارکان کا ایک اجلاس جلد بلائے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں
چین اور پاکستان کے محققین کا مویشی بانی کے فروغ کے لئے تعاون
لاہور میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری، نظام درہم برہم
حکومت کی تردید
دوسری جانب وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے صوبائی حکومت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی کی گروپ بندی سے متعلق خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔
شفیع جان کے مطابق خیبر پختونخوا میں پارٹی ارکان اسمبلی کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے مایوس ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں متحد، پُرعزم اور یکجا ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی پاکستان تحریک انصاف کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
