سندھ کا تاریخی ورثہ، کروڑوں کے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانیاں، عدالتی انکوائری تیز، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا امکان مزید بڑھ گیا
ویب نیوز رپورٹ
کراچی : سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچ نے موہنجو دڑو، مکلی اور بھنبھور سمیت سندھ کے تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی انکوائری پر اہم حکم جاری کر دیا۔
تاہم عدالت نے محکمہ ثقافت سندھ کے سینئر افسر روشن علی کناسرو کو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر پلاننگ، ڈویلپمنٹ، مانیٹرنگ اینڈ امپلیمینٹیشن سیل کے عہدے سے ہٹانے کی ہدایت بھی دی ہے۔

انکوائری میں رکاوٹوں کی شکایات
دریں اثنا یہ حکم محکمہ خزانہ کے سیکریٹری فیاض احمد جتوئی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی شکایات پر دیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق انکوائری کے دوران رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ مزید برآں منصوبوں کا ریکارڈ گم کیا گیا یا فراہم نہیں کیا گیا۔
عدالت میں استدعا
ادھر محکمہ خزانہ کی انکوائری ٹیم نے عدالت سے درخواست کی کہ روشن علی کناسرو کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ جاری تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا انہیں فوری طور پر عہدے سے الگ کرنا ضروری ہے۔

سندھ کا تاریخی ورثہ: ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل
اسی تناظر میں انکوائری کمیٹی، جو سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں کام کر رہی ہے، نے عدالت کو بتایا کہ سال 2018 کے کئی ترقیاتی منصوبے زیرِ تفتیش ہیں۔
کمیٹی کے مطابق روشن علی کناسرو ان منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔ چنانچہ خدشہ ہے کہ وہ ریکارڈ میں رد و بدل کر سکتے ہیں۔
کن منصوبوں پر سوالات اٹھے؟
کمیٹی کے مطابق جن منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے، ان میں شامل ہیں
موہنجو دڑو، مکلی اور بھنبھور کے تاریخی ورثے کا تحفظ
سندھ بھر میں آثار قدیمہ کے مقامات کی بحالی
کلچر ہیریٹیج انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے منصوبے
یہ بھی پڑھیں
پاکستان نے اہم تجارتی رسائی حاصل کرلی
آئندہ کارروائی
عدالت کے حکم کے بعد انکوائری مکمل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ توقع ہے کہ تحقیقات میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔

