April 17, 2026
Office no.47, 3rd floor، Building, Abdullah Haroon Road Saddar, Karachi, Pakistan Postal Code : 74400
پاکستان نے اہم تجارتی رسائی حاصل کرلی
اہم اسٹوریز اہم خبریں کراچی جانِ من

پاکستان نے اہم تجارتی رسائی حاصل کرلی

Pakistan Secures Key Trade Access

پاکستان نے اہم تجارتی رسائی حاصل کرلی، ایران کے راستے وسطی ایشیا تک نیا تجارتی روٹ کھل گیا، علاقائی تجارت میں نئی جہت کا اضافہ

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل

کراچی : پاکستان نے علاقائی تجارت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ پاک ایران سرحد پر گبد بارڈر ٹرمینل فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت کیا گیا ہے۔ یوں ملک کو نئی تجارتی راہ مل گئی ہے۔

یہ راستہ مختصر ہے اور نسبتاً محفوظ بھی ہے۔ اس لیے تجارت میں تیزی کی توقع ہے

متبادل اور محفوظ راستہ

اب پاکستان کو افغانستان کے راستے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی ممکن ہوگی۔ یہ راستہ مختصر ہے اور نسبتاً محفوظ بھی ہے۔ اس لیے تجارت میں تیزی کی توقع ہے۔

پہلی برآمدی کھیپ

اسی تناظر میں کراچی سے پہلی کھیپ روانہ کی گئی ہے۔ یہ کھیپ ازبکستان کے شہر تاشقند کے لیے ہے۔ اس میں گوشت کے کنٹینرز شامل ہیں۔ کسٹمز کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے جا رہے ہیں۔

کراچی سے پہلی کھیپ روانہ کی گئی ہے۔ یہ کھیپ ازبکستان کے شہر تاشقند کے لیے ہے

این ایل سی کا کردار

یہ راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) نے فعال کی ہے۔ ادارہ پہلے بھی کئی تجارتی راستے چلا چکا ہے۔ اس لیے اس کا کردار اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جغرافیائی اہمیت

گبد بارڈر ایسے وقت میں فعال ہوا ہے جب متبادل راستوں کی ضرورت تھی۔ پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ اس سرحد پر غیر رسمی تجارت پہلے سے جاری ہے۔ اب باضابطہ تجارت بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیں

پیٹھ کے بل لیٹ کر زچگی کیوں خطرناک ہے؟

فوت شدہ ملازمین کوٹہ پالیسی بحال، نوجوانوں میں سرکاری نوکری کا جذبہ پھر جاگ اُٹھا

برآمدات اور مستقبل

مالی سال 2025 میں گوشت کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا۔ یہ شرح متحدہ عرب امارات سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے یہ نیا روٹ اہم ہے۔ گبد بارڈر گوادر سے 70 کلومیٹر دور ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ 120 کلومیٹر فاصلے پر ہے۔ یہ مقام مستقبل میں اہم مرکز بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×