فوت شدہ ملازمین کوٹہ پالیسی میں پرانے کیسز پر میرٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ، سندھ کابینہ کے مختلف شعبوں میں بڑے پالیسی اقدامات
ویب نیوز رپورٹ
سندھ کابینہ کی مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے فوت شدہ ملازمین کوٹہ پالیسی بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا، جس کے بعد نوجوانوں میں سرکاری ملازمت کے حصول کا جذبہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں کابینہ نے متعدد اہم پالیسی فیصلوں کی منظوری دی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کن کیسز پر ہوگا اطلاق؟
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وہ کیسز جن کی درخواستیں ستمبر 2024 سے پہلے جمع کرائی گئی تھیں اور جو دیگر شرائط پر پورا اترتے ہیں، ان پر میرٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
تاہم متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان درخواستوں کو قانون کے مطابق نمٹائیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد پیش رفت
کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ فوت شدہ ملازمین کوٹہ پالیسی 2002 ( ڈیسیسزڈ ایمپلائز کوٹی )میں متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے 26 ستمبر 2024 کے فیصلے میں اس سے متعلق قوانین کو امتیازی اور ماورائے قانون قرار دیا تھا، جس کے بعد ان کیسز پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔
اب تفصیلی غور کے بعد حکومت نے پرانے کیسز کو محدود دائرے میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دیگر اہم فیصلے
کابینہ نے اس موقع پر دیگر کئی اقدامات کی بھی منظوری دی، جن میں کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وسائل کے مشترکہ استعمال کی پالیسی، درآمدی اشیاء کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کے اجرا کے لیے سندھ بینک کو بااختیار بنانا، لیاری ندی کو ٹی ایم سی لیاری کے دائرہ اختیار میں شامل کرنا، روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 497 ملین روپے کی منظوری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان کی پہلی بلٹ ٹرین کا آغاز پنجاب سے ہوگا
شادی سے قبل ٹیسٹ لازم، ماہرین نے نوجوانوں کو خبردار کردیا
اصلاحات کا جامع جائزہ
اجلاس میں ملازمتوں، زراعت، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور مالیاتی نظام میں جاری اصلاحات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ شفافیت اور میرٹ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

