پیٹھ کے بل لیٹ کر بچے کی پیدائش کیوں خطرناک سمجھی جاتی ہے؟ تاریخی حقائق اور جدید تحقیق کے اہم انکشافات سامنے آگئے
ویب نیوز رپورٹ
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابتدائی طور پر دنیا بھر میں خواتین ہزاروں برس تک زچگی کے لیے سیدھی یا عمودی حالت اختیار کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتی تھیں پیدائش کے لیے مخصوص اسٹولز استعمال کرتی تھیں یا اکڑوں بیٹھ کر زچگی کرتی تھیں۔
مزید برآں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اکڑوں بیٹھنے سے پیلوس (پلوس) کا قطر تقریباً 2.5 سینٹی میٹر تک بڑھ جاتا ہے۔ نتیجتاً کششِ ثقل بچے کو پیدائشی نالی میں نیچے لے جانے میں مدد دیتی ہے، جس سے زچگی کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔

لیٹ کر زچگی کا رواج کیوں شروع ہوا؟
تاہم سوال یہ ہے کہ پھر آج کل زیادہ تر خواتین پیٹھ کے بل لیٹ کر کیوں بچے کو جنم دیتی ہیں؟ اس حوالے سے برطانیہ کی ایکٹیو برتھ سینٹر کی بانی جینیٹ بالاسکاس کا کہنا ہے کہ زچگی کی فزیالوجی کے بارےمیں عمومی طور پر آگاہی کی کمی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سن 1982 میں شائع ہونے والا ’’ ایکٹیو برتھ مینی فیسٹو‘‘ اسی سوچ کی تبدیلی کے لیے تھا۔ جینیٹ بالاسکاس کے مطابق، خواتین صدیوں سے فطری طور پر سیدھی یا جھکی ہوئی حالت میں زچگی کرتی رہی ہیں۔
نتیجتاً زچگی ایک فطری عمل کے بجائے طبی عمل بن گئی۔ اس کے برعکس صنعتی دور کے بعد ہسپتالوں میں خواتین کو زیادہ تر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔

فرانسیسی اثر اور تاریخی دعوے
کچھ محققین کے مطابق، اس تبدیلی کا آغاز فرانسیسی معالج فرانسوا موریسو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مزید برآں ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ فرانسیسی بادشاہ لوئی چہاردہم نے اس رجحان کو فروغ دیا۔
انہوں نے سن 1668 میں اپنی کتاب میں تجویز دی کہ خواتین کو بستر پر لیٹ کر زچگی کرنی چاہیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ زچگی کے عمل کو دیکھنے میں دلچسپی رکھتا تھا، اور سیدھی حالت میں یہ منظر واضح نہیں رہتا تھا۔
نتیجتاً تاریخی طور پر یہ تبدیلی آہستہ آہستہ رائج ہوتی چلی گئی۔

سائنس کیا کہتی ہے؟
کششِ ثقل اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچے کی حرکت کو آسان بناتی ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، سیدھی یا متحرک حالت میں زچگی زیادہ قدرتی اور فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
جب عورتیں آزادانہ حرکت کرتی ہیں تو وہ فطری طور پر آگے جھکتی ہیں، یا اکڑوں بیٹھنے اور ہاتھ گھٹنوں کے بل آنے جیسی حالتیں اختیار کرتی ہیں۔
تحقیقی شواہد
سن 2013 میں 25 مطالعات کے ایک بڑے جائزے میں پانچ 5 ہزار سے زائد خواتین کا ڈیٹا شامل تھا۔ نتیجتاً سامنے آنے والے اہم نکات یہ تھے
اوّل: آپریشن کے ذریعے زچگی کا خطرہ کم ہوا
سوئم درد کم کرنے والی ادویات کا استعمال کم ہوا۔
نومولود بچوں کے آئی سی یو میں داخلے کے امکانات کم ہوئے تاہم بعض کیسز میں خون کے بہاؤ میں اضافے جیسے خدشات بھی سامنے آئے۔

زچگی کا دورانیہ اور طبی فوائد
اس کے علاوہ تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ سیدھی حالت میں دردِ زہ کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ رحم پر دباؤ کم ہونے کے باعث آکسیجن کی فراہمی بہتر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ ماں اور بچے دونوں کے لیے زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔

برتھ سینٹر اور ہسپتال کا فرق
-سال2011 کی ایک تحقیق میں برتھ سینٹر اور ہسپتال کے ڈیلیوری وارڈز کا موازنہ کیا گیا
نتائج کے مطابق برتھ سینٹر میں 82 فیصد خواتین نے سیدھی حالت اپنائی جبکہ ہسپتال میں یہ شرح صرف 25 فیصد رہی ۔ اس کے نتیجے میں واضح فرق دیکھا گیا کہ ماحول بھی زچگی کی حالت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جدید طبی رہنما اصول
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس (نائس) کے مطابق خواتین کو زچگی کے دوران سیدھی یا نیم سیدھی حالت اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی سہولت کے مطابق حرکت کی آزادی بھی دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں
ایران امریکہ مذاکرات: کیا اس بار ڈیڈلاک ختم ہو سکے گا؟
اختتامی نقطہ نظر
آخر میں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زچگی کے بارے میں آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ لہٰذا جتنا زیادہ علم اور شعور ہوگا، اتنے ہی بہتر فیصلے ممکن ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق خواتین کو اپنے انتخاب میں زیادہ بااختیار بنانے پر زور دیتی ہے۔

