سندھ میں ماہی گیروں کی زندگی سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلیوں کے باعث مشکلات کا شکار، ماہی گیر برادری پریشان

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی کے ساحلی علاقے ریڑی گوٹھ کی قدیم ماہی گیر بستی کبھی صاف و شفاف سمندر اور بھرپور آبی حیات کے لیے مشہور تھی۔ تاہم اب یہ علاقہ شدید سمندری آلودگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
مقامی بزرگ افراد کے مطابق، ماضی میں سمندر کا پانی بے حد صاف ہوتا تھا۔ اگر اس میں سکہ پھینکا جاتا تو وہ واضح نظر آتا تھا۔ تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے۔ پانی اس قدر آلودہ ہو گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس میں گر جائے تو اسے دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماضی کی خوشحالی، حال کی بدحالی
ماضی میں ریڑی گوٹھ کے ماہی گیر ساحل کے قریب ہی بڑی مقدار میں مچھلیاں پکڑ لیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی زندگی نسبتاً مستحکم اور خوشحال تھی۔
مزید یہ کہ انہیں دور دراز سمندر میں جانے کی ضرورت کم پیش آتی تھی۔ اس طرح وقت، محنت اور اخراجات کی بھی بچت ہوتی تھی۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدل گئے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی نے مچھلیوں کی افزائش کو متاثر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں کی صحت بھی خطرے میں پڑ گئی۔
نتیجتاً جلدی امراض، سانس کی بیماریاں اور دیگر طبی مسائل اس بستی میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔

آلودگی کی بڑی وجوہات
ماہرین کے مطابق کراچی کے ساحلی علاقوں میں آلودگی کی کئی وجوہات ہیں۔
سب سے پہلے صنعتی فضلہ شامل ہے۔ یہ فضلہ بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سیوریج کا گندا پانی بھی شہر بھر سے بہہ کر ساحل تک پہنچتا ہے۔
اسی طرح بھینس کالونی اور دیگر علاقوں سے آنے والا حیوانی اور گھریلو فضلہ بھی سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔
مزید برآں ٹیکسٹائل فیکٹریوں اور دیگر صنعتی یونٹس سے نکلنے والے خطرناک کیمیکلز بھی سمندری ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یوں یہ تمام عوامل مل کر سمندر کو آہستہ آہستہ زہریلا بنا رہے ہیں۔ اس کے باعث آبی حیات کا زندہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہی گیروں کا بڑھتا ہوا بحران
ریڑی گوٹھ کے مکینوں کے لیے سمندر صرف قدرتی وسیلہ نہیں۔ یہ ان کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
تاہم آلودگی کے باعث ان کی معاشی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ مچھلیوں کی کمی سے آمدنی کم ہو گئی ہے۔
دوسری جانب بیماریوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ اس طرح ماہی گیر برادری ایک بڑے معاشی اور سماجی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
حکومتی خاموشی اور بڑھتی تشویش
بدقسمتی سے اس سنگین صورتحال کے باوجود متعلقہ ادارے اور حکومتِ سندھ مؤثر اقدامات کرتے نظر نہیں آتے۔
روزانہ کروڑوں گیلن آلودہ پانی بغیر کسی صفائی کے سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔ نتیجتاً یہ صورتحال ماحول اور انسانی زندگی دونوں کے لیے خطرناک بنتی جا رہی ہے۔
مطالبات اور ممکنہ حل
اسی تناظر میں کوسٹل میڈیا سینٹر اور مقامی ماہی گیر برادری نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے مطالبات میں شامل ہے کہ صنعتی فضلے کو ٹریٹمنٹ کے بغیر سمندر میں چھوڑنے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ سیوریج نظام کو بہتر بنایا جائے۔ مزید یہ کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی نصب کیے جائیں۔
اسی طرح ساحلی علاقوں کی باقاعدہ صفائی اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
مزید برآں ماہی گیروں کی صحت اور روزگار کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کا ذمہ دار کون؟
ایم کیو ایم انٹرا پارٹی انتخابات سے لاعلم ہے؟
نتیجہ
ماہرین کے مطابق اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ریڑی گوٹھ کا سمندر مزید آلودہ ہوتا جائے گا۔
اس کے نتیجے میں سمندری حیات شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ہزاروں ماہی گیروں اور ان کے خاندانوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، ماحولیاتی ادارے اور معاشرہ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اس طرح آنے والی نسلوں کو صاف اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔