April 20, 2026
Office no.47, 3rd floor, Building, Abdullah Haroon Road Saddar, Karachi Postal Code : 74400
کراچی میں خواجہ سرا پر تشدد کی وجہ کیا ہے؟

کراچی میں خواجہ سرا پر تشدد کی وجہ کیا ہے؟

What Is the Real Reason Behind Violence Against Transgender People in Karachi?

کراچی میں خواجہ سراؤں پر بڑھتے تشدد کے واقعات، سماجی رویے، قانونی کمزوریاں اور تحفظ کے فقدان نے برادری کو شدید خطرات میں ڈال دیا

ویب نیوز رپورٹ

کراچی میں خواجہ سرا برادری کے ایک فرد پر تشدد اور اغوا کا مقدمہ تھانہ اقبال مارکیٹ میں درج کر لیا گیا ہے۔

اس دوران پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

نور حرا کے مطابق تشدد کے باعث ان کی آنکھ اور جسم پر گہرے زخم آئے

خواجہ سرا نور حرا کے الزامات

متاثرہ خواجہ سرا نور حرا کا کہنا ہے کہ 13 اپریل کو انہیں اورنگی ٹاؤن میں ایک فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر اغوا کیا گیا۔

ان کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر ان پر تشدد اور زیادتی کی۔

بعد ازاں انہیں صدر کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔

نور حرا کے مطابق تشدد کے باعث ان کی آنکھ اور جسم پر گہرے زخم آئے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے

پولیس کا مؤقف اور تفتیش

ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی کے مطابق ملزمان نے خواجہ سرا کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

مزید برآں انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں متعدد ملزمان کے نام شامل ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

کراچی میں خواجہ سرا برادری کے خلاف ایسے واقعات کوئی پہلا کیس نہیں ہیں

کراچی میں خواجہ سرا برادری پر تشدد کے واقعات

کراچی میں خواجہ سرا برادری کے خلاف ایسے واقعات کوئی پہلا کیس نہیں ہیں۔

مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں شہر میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں، تشدد کے کیسز، اغوا،فائرنگ اور قتل کے مقدمات شامل ہیں۔

تاہم ان میں سے بیشتر کیسز میں انصاف کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔

کراچی میں حالیہ کیس نے ایک بار پھر خواجہ سرا برادری کی تحفظ کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں

کارروائی اور انصاف کی صورتحال

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں خواجہ سرا افراد کے خلاف رپورٹ ہونے والے کئی کیسز میں کچھ میں ایف آئی آر درج ہوئی کچھ میں گرفتاریاں عمل میں آئیں

لیکن بہت سے کیسز میں سزا (کنوکشن) سامنے نہیں آ سکی

نتیجتاً متاثرہ برادری کے مطابق انصاف کا نظام سست روی کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ ماہر جنسیات کے مطابق، 10 لاکھ میں سے کوئی ایک بچہ تیسری جنس کے بطور پیدا ہوتا ہے جسے معاشرہ مختلف ناموں سے پکارتا ہے۔
تفیصیلات کے لیے کلک کریں۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی؟

سندھ میں ماہی گیروں کی زندگی اور سمندری حیات شدید خطرے میں ہے؟

نتیجہ

کراچی میں حالیہ کیس نے ایک بار پھر خواجہ سرا برادری کی تحفظ کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اسی دوران پولیس کی کارروائی جاری ہے، تاہم شہری اور انسانی حقوق کے حلقے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×