کراچی کی 89 ہائی رسک یونین کونسلز میں 12 سے 25 مئی تک پولیو بوسٹر ڈوز مہم، 10 سال تک کے بچوں کو ویکسین دی جائے گی

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ تاہم افواہیں اور غلط معلومات اب بھی بڑا چیلنج ہیں۔ یہ بات سندھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے کراچی پریس کلب میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔
بریفنگ میں سندھ انسدادِ پولیو پروگرام ٹیم، ماہرینِ صحت، بچوں کے ڈاکٹرز، صحافیوں اور کراچی پریس کلب کے عہدیداران نے شرکت کی۔

والدین کا اعتماد بڑھانے کی کوشش
والدین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن اور متعدد صحافیوں نے پولیو بوسٹر ڈوز بھی لگوائی۔ اس موقع پر ویکسین کی حفاظت سے متعلق یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کی 89 ہائی رسک یونین کونسلز میں 12 سے 25 مئی تک مہم چلائی جائے گی۔ مہم کے دوران 10 سال تک کے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز دی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط ہوگی۔ اس سے پولیو وائرس کی منتقلی روکنے میں بھی مدد ملے گی۔
ویکسین کوریج میں اضافہ
شہریار میمن نے کہا کہ سندھ بھر میں پولیو ویکسین کی کوریج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انکاری والدین کی تعداد بھی بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ بہتری مسلسل آگاہی مہم اور کمیونٹی انگیجمنٹ کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم پولیو وائرس کی آخری قسم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہر ویکسین شدہ بچہ ہمیں پولیو فری کراچی اور پاکستان کے مزید قریب لے جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے میڈیا، علمائے کرام، اساتذہ، سول سوسائٹی اور سرکاری اداروں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق افواہوں کا مؤثر مقابلہ بھی مہم کا اہم حصہ ہے۔
ماہرینِ صحت کی حمایت
بریفنگ میں شریک ماہرینِ صحت اور بچوں کے ڈاکٹرز نے پولیو بوسٹر ڈوز حکمتِ عملی کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی رسک علاقوں میں بچوں کو اضافی خوراک دینا ضروری ہے۔ اس سے بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سندیپ نے کہا کہ پولیو بوسٹر ڈوز مہم بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم اقدام ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ مہم کے دوران 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اپنے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز ضرور دلوائیں۔
ڈاکٹر سندیپ نے کہاکہ پولیو بوسٹر ڈوز مفت، محفوظ اور ہر بچے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود کراچی اب بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رسک زون ہے۔ اسی لیے مؤثر اور مربوط ویکسینیشن اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستانی محقق کا صحت کے شعبے میں انقلابی استعمال کا خواب
ٹیلر ماسٹر کی بیٹی نے ریکارڈ قائم کر دیا
فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت مکمل
حکام کے مطابق فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ محفوظ ویکسینیشن کے ساتھ کمیونٹی انگیجمنٹ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر شرکاء نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں اور عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


