Hundreds Die Daily in Pakistan Due to Tobacco Use

تمباکو نوشی نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈبلیو ایچ او نے ٹیکس بڑھانے اور سخت اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

اسلام آباد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ اس سے ہونے والا معاشی نقصان 6.6 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 1800 ارب روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو اور نکوٹین کی صنعت نوجوانوں اور بچوں کو اپنی مصنوعات کی طرف راغب کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملیاں اختیار کر رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والا سالانہ معاشی نقصان 1800 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

نوجوانوں کو تمباکو سے بچانے کی ضرورت

31 مئی کو منائے جانے والے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو سے قبل جاری بیان میں ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے بچانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والا سالانہ معاشی نقصان 1800 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ یہ رقم 2025 میں تمباکو صنعت کی جانب سے ادا کیے گئے تقریباً 265 ارب روپے ٹیکس سے سات گنا زیادہ بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو افراد تمباکو نوشی ترک نہیں کرتے، ان میں سے نصف تک اس کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

تمباکو ایک خاموش قاتل

پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر ڈیپنگ لو نے کہا کہ تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ نہ صرف افراد اور خاندانوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ صحتِ عامہ اور قومی معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو افراد تمباکو نوشی ترک نہیں کرتے، ان میں سے نصف تک اس کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیپنگ لو کے مطابق قانونی اور غیر قانونی، دونوں طرح کی تمباکو مصنوعات انتہائی زہریلی اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ تمباکو نوشی دل کے امراض، فالج، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور مختلف اقسام کے سرطان کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

سنگین بیماریوں کی بڑی وجہ

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ تمباکو نوشی دل کے امراض، فالج، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور مختلف اقسام کے سرطان کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

ادارے کے مطابق تمباکو اور نکوٹین کمپنیاں اپنی مصنوعات کو نئے انداز میں ڈیزائن اور مارکیٹ کر رہی ہیں تاکہ نوجوان صارفین کو اپنی جانب متوجہ کیا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ بچے اور نوجوان اس صنعت کا خاص ہدف ہیں، جنہیں نشے کی لت میں مبتلا رکھنے کے لیے مخصوص حکمتِ عملی اپنائی جاتی ہے۔

عالمی یومِ انسدادِ تمباکو 2026 کی مہم کا موضوع “کشش کا پردہ چاک کرنا، نکوٹین اور تمباکو کی لت کا مقابلہ” رکھا گیا ہے۔

عالمی مہم کا موضوع

عالمی یومِ انسدادِ تمباکو 2026 کی مہم کا موضوع “کشش کا پردہ چاک کرنا، نکوٹین اور تمباکو کی لت کا مقابلہ” رکھا گیا ہے۔

اس مہم کا مقصد ای سگریٹ اور دیگر نکوٹین مصنوعات کی نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت اور ان کی تشہیر کے طریقوں کو بے نقاب کرنا ہے۔

عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 13 سے 15 سال عمر کے کم از کم 4 کروڑ بچے اور نوجوان کسی نہ کسی تمباکو مصنوعات کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سگریٹ، بغیر دھوئیں والا تمباکو اور ای سگریٹ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کے طریقے

پاک چین کاروبار: تجارت میں تیزی، پاکستانی تاجروں کی چین میں کامیابی

ٹیکس میں اضافے کی سفارش

ڈبلیو ایچ او نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ تمباکو پر عائد ٹیکس میں اضافہ کیا جائے۔

ادارے کے مطابق فروری 2023 کے بعد سگریٹ ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث مہنگائی کے باوجود تمباکو مصنوعات نسبتاً سستی ہو گئی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت سفارش کرتا ہے کہ تمباکو مصنوعات کی خوردہ قیمت کا کم از کم 75 فیصد حصہ ٹیکس کی صورت میں وصول کیا جائے، تاہم پاکستان ابھی اس ہدف سے نیچے ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے نہ صرف حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تمباکو نوشی کی شرح، اس سے جڑی بیماریوں اور صحت کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کمی آتی ہے۔

پاکستان کے اقدامات پاکستان نے 2004 میں تمباکو کنٹرول سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن کی توثیق کی تھی۔ اس کے بعد ملک نے تمباکو ٹیکس پالیسی، اسمگلنگ کی روک تھام اور تمباکو مصنوعات کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام سمیت مختلف اقدامات میں عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *