عیدالاضحیٰ پر گوشت کے غیر متوازن استعمال سے قے، اسہال اور بدہضمی میں اضافہ، ماہرین صحت نے احتیاطی ہدایات جاری

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی:عیدالاضحیٰ خوشیوں، قربانی اور دعوتوں کا تہوار ہے، لیکن ہر سال کی طرح اس بار بھی گوشت کے غیر متوازن استعمال نے متعدد شہریوں کو صحت کے مسائل سے دوچار کر دیا
عید کے تینوں دن کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں قے، اسہال، بدہضمی اور پیٹ درد کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
طبی ذرائع کے مطابق عید کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے ضرورت سے زیادہ گوشت کھایا، جبکہ پانی، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال کم رہا۔ اس کے نتیجے میں نظامِ ہاضمہ متاثر ہوا اور اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا۔

اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ
سول اسپتال کے ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عمران کے مطابق عید کے دوسرے روز 100 سے زائد مریض الٹی، متلی اور پیٹ درد کی شکایات کے ساتھ اسپتال پہنچے۔
اسی طرح عید کے تیسرے روز بھی معدے اور ہاضمے کے امراض میں مبتلا 100 سے زائد افراد نے علاج کے لیے رجوع کیا۔
ایمرجنسی انچارج عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ زیادہ گوشت، کم پانی اور غیر متوازن خوراک کے باعث قے، اسہال اور بدہضمی کی شکایات میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب جناح اسپتال میں بھی عید کے پہلے روز پیٹ کے امراض میں مبتلا 50 سے زائد مریض لائے گئے۔
گوشت کے زیادہ استعمال کے نقصانات
ماہرین صحت کے مطابق قربانی کا گوشت اگرچہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، تاہم اس کا حد سے زیادہ استعمال انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً گرمی کے موسم میں۔
زیادہ گوشت کھانے سے بدہضمی، قبض، معدے کی تیزابیت، اسہال اور دیگر ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد روزانہ تقریباً ایک پاؤ گوشت استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو نصف پاؤ یا اس سے کم مقدار میں گوشت کھانا چاہیے۔
کن چیزوں سے پرہیز ضروری ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق کلیجی، گردے، مغز اور پائے میں کولیسٹرول کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے امراضِ قلب، شوگر، ہائی کولیسٹرول اور گردوں کے مریضوں کو ان کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔
اسی طرح بار بی کیو یا گرل کیے گئے گوشت کو مکمل طور پر پکانا ضروری ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کچا یا آدھا پکا گوشت مختلف جراثیم اور بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً اگر اس میں خون کے ذرات موجود ہوں۔
گوشت محفوظ رکھنے کا درست طریقہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ قربانی کے گوشت کو مناسب درجہ حرارت پر فریزر میں محفوظ کرنا چاہیے۔
بہتر یہی ہے کہ گوشت کو دو ہفتوں کے اندر استعمال کر لیا جائے۔
گوشت کو بار بار فریز اور ڈی فریز کرنے سے اس کی غذائیت اور معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
صحت مند عید کے لیے احتیاطی تدابیر
ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ گوشت کے ساتھ سلاد اور سبزیاں ضرور استعمال کریں۔
دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
بیک وقت زیادہ گوشت کھانے سے گریز کریں۔
دہی، لسی اور دیگر زود ہضم غذاؤں کو خوراک کا حصہ بنائیں۔
گوشت کھانے کے بعد سبز قہوہ یا ہلکی چائے استعمال کریں تاکہ ہاضمہ بہتر رہے۔
دل، بلڈ پریشر، یورک ایسڈ اور کولیسٹرول کے مریض خصوصی احتیاط کریں۔
یہ بھی پڑھیں
سانحہ 12 مئی کراچی: چیف جسٹس آمد سے قبل خونریز تصادم، درجنوں جاں بحق
وزیراعلیٰ کے خلاف پی ٹی آئی ارکان کی ناراضی بڑھنے لگی
نتیجہ
عیدالاضحیٰ خوشی اور شکرگزاری کا تہوار ہے، لیکن صحت مند رہنے کے لیے اعتدال اور احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب پانی اور گوشت کے معتدل استعمال سے نہ صرف ہاضمے کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے بلکہ عید کی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز بھی ہوا جا سکتا ہے۔
اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی یاددہانی ہے کہ صحت مند عادات اپنانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
