ارتھ ڈے پر ماحولیاتی تحفظ کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر کیا زمین کو بچانے کے لیے واقعی سنجیدہ اور عملی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں؟

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
ہر سال اپریل کو دنیا بھر میں آرتھ ڈے (زمین کا دن) منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد انسان اور زمین کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ مزید یہ کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے شعور اجاگر کرنا بھی ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ زمین کی حفاظت صرف حکومتوں کی نہیں، بلکہ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آرتھ ڈے کی تاریخ اور اہمیت
آرتھ ڈے کا آغاز 1970 میں امریکہ سے ہوا۔ اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی۔
وقت کے ساتھ یہ دن عالمی مہم بن گیا۔ نتیجتاً آج 190 سے زائد ممالک میں کروڑوں لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔
اس دن مختلف سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔ مثلاً درخت لگانا، صفائی مہمات، سیمینارز اور آگاہی واکس شامل ہیں۔

ماحولیاتی چیلنجز: بڑھتا ہوا بحران
دنیا اس وقت سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ جن میں موسمیاتی تبدیلی، فضائی اور آبی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ شامل ہیں۔
پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہروں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔
صنعتی فضلہ، پلاسٹک کا زیادہ استعمال اور کچرے کا ناقص انتظام ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
آرتھ ڈے صرف ایک دن نہیں، بلکہ طرزِ زندگی بدلنے کا پیغام ہے۔
ہم چند آسان اقدامات سے ماحول بچا سکتے ہیں- پلاسٹک کا استعمال کم کرنا
درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا، پانی اور بجلی کا محتاط استعمال کرنا، کچرے کو درست طریقے سے ٹھکانے لگانا
ماحول دوست مصنوعات کا انتخاب کرنا

نوجوانوں کا کردار
نوجوان اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے وہ سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ماحول دوست سوچ پھیلا سکتے ہیں۔
نتیجتاً وہ دوسروں کو بھی اس مہم کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے
سینئر ماحولیاتی ماہر رفیع الحق نے کہا کہ پاکستان کشمیر سے ساحلی علاقوں تک دریاؤں کے جال سے جڑا ہے۔ یہ نظام جسم کے اعصابی نظام کی طرح کام کرتا ہے۔
ان کے مطابق ڈیموں سے پانی روکنے اور چھوٹے آبی راستے ختم کرنے سے سیلاب بڑھ رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں زمینیں متاثر ہو رہی ہیں اور ماہی گیروں کی بستیاں اجڑ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 200 سے زائد جھیلیں نظر انداز ہیں۔
کراچی یونیورسٹی کے ماحولیاتی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر عالمگیر نے انکشاف کیا کہ کراچی کے پانی کے ذرائع آلودہ ہیں۔
ان کے مطابق نلکے کا پانی، منرل واٹر اور بورنگ کا پانی 40 سے 50 فیصد تک آلودہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹھٹہ، لیاری، کورنگی کریک اور شمالی کراچی میں پانی کی لائنوں میں وائرس اور بیکٹیریا موجود ہیں۔
مزید یہ کہ پلاسٹک بوتلوں سے نکلنے والا مائیکرو پلاسٹک گردوں کی پتھری کا سبب بن رہا ہے۔
میرین سائنس دان اور پائیدار ترقی کے ماہر ڈاکٹر نزہت خان نے کہا کہ سمندر ہماری معیشت کی بنیاد ہیں۔
ان کے مطابق بلیو اکانومی کا مطلب صحت مند سمندر ہیں، جہاں تجارتی سرگرمیاں ماحول کے لیے فائدہ مند ہوں۔
اس کے علاوہ دنیا کی تجارت، سیاحت اور خوراک کا دارومدار سمندروں پر ہے۔
مزید یہ کہ شمسی توانائی، پن بجلی اور سمندری لہروں سے توانائی پیدا کر کے سیارے کو “نیلا سیارہ” بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے طلبہ کو تحقیق کی دعوت بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی منشیات بحالی مراکز پر بڑا ایکشن، ایس ایچ سی سی نے مراکز سیل کر دیے
گرج چمک کے طوفان کب خطرناک بنتے ہیں؟
آرتھ ڈے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ہم نے آج زمین کا خیال نہ رکھا تو مستقبل خطرے میں ہوگا۔
لہٰذا یہ دن ایک عہد ہے-زمین سے محبت کا، اس کی حفاظت کا، اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا۔
یاد رکھیں: زمین ہماری نہیں، ہم زمین کے ہیں۔


