کراچی منشیات بحالی مراکز کے خلاف ایس ایچ سی سی نے قانونی کارروائی کی ہے۔ سنگین مسائل اور سنگین خلاف ورزیاں سامنے آگئیں۔
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
کراچی : کراچی میں بحالی مراکز کے اندر ایسا کیا ہو رہا تھا جس نے حکام کو سخت کارروائی پر مجبور کر دیا؟ ایس ایچ سی سی کی ٹیموں نے جب معائنہ کیا تو صورتحال تشویشناک اور حیران کن تھی۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) نے کراچی میں غیر قانونی طور پر چلنے والے منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی مراکز کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اداروں کو قابو میں لانا ہے۔
یہ کارروائی 15 روزہ نوٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد کی گئی۔ ایس ایچ سی سی کی ٹیموں نے ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ملیر میں معائنے کیے۔ اس دوران چار مراکز کو جزوی طور پر سیل کیا گیا۔
واضح رہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے بحالی مراکز کو سیل کرنے سے قبل وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔

نوٹس اور رجسٹریشن کی ہدایت
ان مراکز کو پہلے عوامی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ انہیں 15 دن میں رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی کم از کم معیار پر عمل کرنے کا کہا گیا تھا۔ تاہم کئی ادارے ان شرائط پر پورا نہیں اترے۔
معائنے میں کون سی خامیاں سامنے آئیں؟
معائنے کے دوران کئی سنگین مسائل سامنے آئے۔ انڈس سائیکاٹرک کلینک، بابر سائیکاٹرک ہسپتال، قائدآباد سائیکاٹرک ہسپتال اور پرورش ری ہیبلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا گیا۔
ان مراکز میں ماہر نفسیات موجود نہیں تھے۔ ڈاکٹرز اور نرسز کی کمی بھی پائی گئی۔ انفیکشن کنٹرول کے انتظامات بھی ناقص تھے۔ مریضوں کو غیر معیاری حالات میں رکھا جا رہا تھا۔
کئی مریض غیر تربیت یافتہ افراد کی نگرانی میں تھے۔ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، تپ دق اور ایچ آئی وی کی اسکریننگ بھی مناسب نہیں تھی۔
ایس ایچ سی سی کا سخت مؤقف
ایس ایچ سی سی کے سی ای او ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے کہا کہ مراکز کو واضح ہدایت دی گئی تھی۔ رجسٹریشن وقت پر مکمل کرنا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام میں سنگین شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ مراکز نے تعاون کیا۔ تاہم زیادہ تر نے نوٹس پر عمل نہیں کیا۔
سندھ بھر میں مزید کارروائی کا امکان
چار مراکز کو سیل کر دیا گیا ہے۔ انہیں حتمی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ انہیں فوری رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے کہا کہ بغیر ماہر نفسیات کوئی مرکز کام نہیں کر سکتا۔ سندھ بھر میں انسپکشنز جاری رہیں گی۔ غیر رجسٹرڈ مراکز کے خلاف کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں
گرج چمک کے طوفان کب خطرناک بنتے ہیں؟
ہمپ بیک وہیل کی واپسی نے سمندری دنیا کا راز کھول دیا
عوام کے لیے ہدایت
ایس ایچ سی سی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ علاج سے پہلے مرکز کی تصدیق کریں۔ دیکھیں کہ وہ رجسٹرڈ ہو۔ وہاں ماہر نفسیات اور تربیت یافتہ طبی عملہ موجود ہوں ۔ اور ماحول صاف، معیاری، اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہو۔


