April 25, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
حاجی ہارون پاریکھ جعلی اکاؤنٹس کیس میں بری
Haji Haroon Parekh Acquitted in Fake Accounts Case

حاجی ہارون پاریکھ جعلی اکاؤنٹس کیس میں بری

حاجی ہارون پاریکھ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں بری کر دیا

یب نیوز ڈیسک رپورٹ

کراچی : کراچی کی اسپیشل کورٹ برائے بینکنگ جرائم نے معروف کاروباری شخصیت حاجی ہارون پاریکھ کو جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں بری کر دیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ خاطر خواہ شواہد پیش نہیں کر سکا۔

4 مارچ سن 2026 کے فیصلے میں عدالت نے فوجداری ضابطہ کار کی دفعات 249-اے اور 265-کے کے تحت درخواستیں منظور کیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پیش کردہ مواد سزا کے معقول امکان کو ثابت نہیں کرتا۔

یہ مقدمہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے درج کیا تھا۔ کیس میں سمٹ بینک کے اکاؤنٹس کے ذریعے مشتبہ لین دین، جعلی اکاؤنٹس اور مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات شامل تھے۔

عدالت نے حاجی ہارون پاریکھ کے ساتھ دیگر ملزمان کو بھی بری کر دیا۔ ان میں حسین لوائی، عادل شاہ راشدی، مشتاق احمد، خواجہ سلمان یونس، عمران خان، محمد اورنگزیب خان اور ایم یونس کدوائی شامل ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پیش کردہ مواد سزا کے معقول امکان کو ثابت نہیں کرتا

کرنسی ایکسچینج سیکٹر میں کردار

حاجی ہارون پاریکھ کراچی کی کاروباری برادری میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہیں کرنسی ایکسچینج سیکٹر کی اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

وہ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایچ اینڈ ایچ ایکسچینج میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

مالیاتی شعبے سے وابستگی کے باعث ان کے سیاسی رہنماؤں اور اسٹیٹ بینک حکام سے روابط رہے۔ میمن برادری میں بھی انہیں بااثر بزرگ مانا جاتا ہے۔

وہ پاکستانی روپے کی قدر پر بھی باقاعدگی سے رائے دیتے رہے ہیں۔ حامیوں کے مطابق، سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں پیشہ ورانہ ذمہ داری کا حصہ تھیں، نہ کہ سیاسی وابستگی۔

منی چینجرز کو ایکسچینج کمپنیوں میں تبدیل کرنے کے عمل میں وہ ٹیکنیکل کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کمیٹی میں اسٹیٹ بینک اور وزارتِ قانون کے افسران شامل تھے۔

کووڈ 19 کے دوران انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ پھنسے ہوئے افراد کے لیے 13 چارٹرڈ پروازوں کا انتظام کیا۔

کووڈ 19 کے دوران انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ پھنسے ہوئے افراد کے لیے 13 چارٹرڈ پروازوں کا انتظام کیا

ایف آئی اے کے الزامات

ایف آئی اے کے مطابق، جعلی دستاویزات اور دستخطوں کے ذریعے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے بھاری رقوم منتقل کی گئیں۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اربوں روپے مختلف افراد اور اداروں کو منتقل ہوئے۔ تحقیقاتی ادارے نے اسے منی لانڈرنگ قرار دیا۔

تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ بعض بینک افسران نے قواعد کی خلاف ورزی کی۔ کے وائی سی اور ویریفکیشن کے باوجود اکاؤنٹس کھولنے میں سہولت دی گئی۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ استغاثہ براہِ راست تعلق ثابت نہیں کر سکا۔ ملزمان کو دھوکہ دہی، جعلسازی یا منی لانڈرنگ سے جوڑنے کے شواہد ناکافی رہے۔

تفتیشی حکام یہ بھی ثابت نہ کر سکے کہ ملزمان نے جان بوجھ کر جعلی دستاویزات استعمال کیں۔ غیر قانونی مالی فائدے کا بھی کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی مخصوص جعلی دستاویز کی نشاندہی نہیں کی جا سکی۔ ریکارڈ پر موجود مواد بھی جعلسازی ثابت نہیں کرتا۔

ریگولیٹرز کی خاموشی

عدالت نے نوٹ کیا کہ کسی بڑے ادارے نے شکایت درج نہیں کرائی۔ سمٹ بینک، سندھ بینک، اسٹیٹ بینک یا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا۔

مزید کہا گیا کہ ایف آئی اے نے مقدمہ خود درج کیا۔ یہ کارروائی کسی متاثرہ فریق کی درخواست کے بغیر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

پاک چین دفاعی معاہدہ: دشمن کے لیے ایک اور خطرہ بڑھ رہا ہے رہے؟

ٹرائل سے پہلے فیصلہ

دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد عدالت نے مقدمہ ختم کر دیا۔ عدالت کے مطابق شواہد ناکافی تھے، اس لیے مزید کارروائی بے سود تھی۔

اسی بنیاد پر باقاعدہ ٹرائل سے پہلے ہی تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ ان کے ضمانتی مچلکے بھی منسوخ کر دیے گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×