Heat Waves: What Is the Dangerous Heat Limit for Humans?

ہیٹ ویوز اور بڑھتی نمی انسانی جسم کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، تحقیقات کے مطابق 31 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ممالک اس وقت شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں ہیں۔ کروڑوں افراد معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔

درحقیقت، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ آخر کتنا درجہ حرارت روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ درجہ حرارت کے ساتھ فضا میں موجود نمی کی مقدار بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نتیجتاً جسمانی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

سال 2010 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ نمی والے علاقوں میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ انسانی جسم کے تحفظ کی آخری حد تصور کی جا سکتی ہے۔

اس سے زیادہ درجہ حرارت پر انسانی جسم پسینے کو بخارات میں تبدیل کرکے خود کو مؤثر طریقے سے ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا۔ نتیجتاً جسمانی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تاہم، حالیہ برسوں میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اس موضوع پر مزید تحقیقی کام کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جسم کی برداشت کی حقیقی حدود کا تعین کیا جا سکے۔

اس تحقیق میں 13 بالغ افراد کو مختلف درجہ حرارت اور نمی والے ماحول میں ایک گھنٹے تک آرام کی حالت میں رکھا گیا۔

40 ڈگری سینٹی گریڈ پر جسم کی جدوجہد

سال 2023 میں برطانیہ کی روہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر انسانی جسم کو گرمی پر قابو پانے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔

اس تحقیق میں 13 بالغ افراد کو مختلف درجہ حرارت اور نمی والے ماحول میں ایک گھنٹے تک آرام کی حالت میں رکھا گیا۔

تحقیق کے دوران 27 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں تجربات کیے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر جسم کا میٹابولک ریٹ بڑھ جاتا ہے، خصوصاً جب فضا میں نمی کی مقدار زیادہ ہو۔

محققین کے مطابق، 40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت میں انسانی جسم کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

ایسے خشک ماحول میں جسم احتیاط کے ساتھ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک روزمرہ کے کام انجام دے سکتا ہے۔

زیادہ نمی کیوں خطرناک ہے؟

تحقیق میں واضح کیا گیا کہ صرف زیادہ درجہ حرارت ہی صحت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ زیادہ نمی بھی انسانی جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکا کی پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی جولائی 2023 کی تحقیق کے مطابق، اگر فضا میں نمی 50 فیصد سے زیادہ ہو تو انسانی جسم 35 ڈگری کے بجائے 31 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہی خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔

خشک اور مرطوب ماحول میں فرق

امریکی تحقیق کے مطابق، خشک اور گرم موسم میں جسم پسینے کو بخارات میں تبدیل کرکے خود کو ٹھنڈا رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ تاہم، انسان ایک مخصوص حد تک ہی پسینہ خارج کر سکتے ہیں، جس کے بعد جسم میں حرارت جمع ہونے لگتی ہے۔

ایسے خشک ماحول میں جسم احتیاط کے ساتھ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک روزمرہ کے کام انجام دے سکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر درجہ حرارت نسبتاً کم ہو لیکن نمی زیادہ ہو تو دل اور جسم کے دیگر نظاموں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کارپوریٹ پیڈل کپ پاکستان: کراچی میں بڑے اسپورٹس ایونٹ کا آغاز

سونم کپور نے ایشوریا کو ’آنٹی‘ کیوں کہا؟

ایسے حالات میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر جسم کے لیے اپنا اندرونی درجہ حرارت متوازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بوڑھے افراد پر مزید تحقیق کی تیاری محققین کے مطابق، آئندہ مرحلے میں عمر رسیدہ افراد پر تحقیق کی جائے گی کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی جسم کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *