April 24, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
دوپہر کی نیند کہیں خاموش خطرہ تو نہیں؟
Is an Afternoon Nap a Silent Risk?

دوپہر کی نیند کہیں خاموش خطرہ تو نہیں؟

دوپہر کی نیند: نئی تحقیق میں طویل قیلولے کو دماغی تنزلی، دل کی بیماری اور موت کے بڑھتے خطرے سے جوڑ دیا گیا


ویب نیوز رپورٹ

دوپہر کی نیند کو عام طور پر دماغی اور جسمانی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ مختصر قیلولہ تھکن کم کرتا ہے۔ اس سے توجہ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم نئی طبی تحقیق اس معاملے میں احتیاط کی تلقین کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ 20 منٹ سے زیادہ قیلولہ بعض صورتوں میں خطرے کی علامت بن سکتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر درمیانی عمر اور بڑھاپے میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

امریکا کے بریگھم ماس جنرل ہاسپٹل اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے اس موضوع کا جائزہ لیا

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

امریکا کے بریگھم ماس جنرل ہاسپٹل اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے اس موضوع کا جائزہ لیا۔

ان کے مطابق معمر افراد میں دوپہر کی زیادہ غنودگی ہمیشہ نیند کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ جسم میں موجود کسی پوشیدہ بیماری کی علامت بھی بن جاتی ہے۔

اسی مقصد کے لیے تحقیق میں 1338 معمر افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد کی صحت اور معمولات کا 19 سال تک جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دوران دوپہر کی نیند کی عادات کا تفصیلی ریکارڈ رکھا گیا

قیلولہ اور موت کے خطرے کا تعلق

تحقیق کے دوران دوپہر کی نیند کی عادات کا تفصیلی ریکارڈ رکھا گیا۔ اسی کے ساتھ موت کی شرح کو بھی ٹریک کیا گیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ دیر تک قیلولہ کرنے والوں میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محققین کے مطابق اس عادت اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے۔

درمیانی عمر یا بڑھاپے میں زیادہ غنودگی کئی مسائل سے جڑی ہو سکتی ہے۔

دماغی تنزلی، امراضِ قلب، دیگر طبی پیچیدگیاں

تحقیق کے مطابق قیلولے کا ہر اضافی گھنٹہ خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق موت کا خطرہ تقریباً 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ناشتے کے بعد کیا جانے والا قیلولہ زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے

ناشتے کے بعد قیلولہ زیادہ نقصان دہ؟

تحقیق میں ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق ناشتے کے بعد کیا جانے والا قیلولہ زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوپہر کے کھانے کے بعد کا قیلولہ نسبتاً کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں 20 سے 60 فیصد معمر افراد قیلولہ کرتے ہیں۔

مختصر قیلولہ کیوں مفید سمجھا جاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق مختصر قیلولہ دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ یہ توانائی بحال کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

تاہم جب قیلولہ روزانہ کی عادت بن جائے تو مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ طویل دورانیہ کئی بیماریوں کا ابتدائی اشارہ بھی بن سکتا ہے۔

اسی لیے ماہرین 15 سے 30 منٹ کے قیلولے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے نتائج

اپریل 2023 میں اسپین کے خوان رامون خیمنیز یونیورسٹی ہاسپٹل نے بھی اس موضوع پر تحقیق کی۔

اس تحقیق کے مطابق 30 منٹ یا اس سے زیادہ قیلولہ خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

دنیا بھر میں اس بیماری سے 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہیں۔ یہ عارضہ فالج کے خطرے کو پانچ گنا تک بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خلیجِ فارس میں تیل رساؤ آخر کتنا خطرناک ہو چکا ہے؟

ارتھ ڈے اور ماحولیاتی تحفط پر صرف پیغامات ناکافی؟

تحقیق کیسے کی گئی؟

اس مطالعے میں 20 ہزار سے زائد صحت مند افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

شرکا سے ہر دو سال بعد سوالنامے بھروائے گئے۔ اس کے بعد انہیں تین گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

وہ افراد جو دوپہر کو نہیں سوتے تھے، 30 منٹ سے کم سوتے تھے، 30 منٹ سے زیادہ سوتے تھے

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ دیر سونے والوں میں خطرہ بڑھ گیا۔ ان افراد میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا امکان دوگنا دیکھا گیا۔

اس کے برعکس مختصر قیلولہ کرنے والوں میں خطرہ کم تھا۔

تحقیق کہاں شائع ہوئی؟

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع کیے گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×