May 18, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
شرح پیدائش: تیسرے بچے پر 30 ہزار، چوتھے پر 40 ہزار انعام کا اعلان
Population: Announcement of Rs 30,000 for third child and Rs 40,000 for fourth child incentive scheme.

شرح پیدائش: تیسرے بچے پر 30 ہزار، چوتھے پر 40 ہزار انعام کا اعلان

شرح پیدائش میں کمی روکنے کے لیے آندھرا پردیش حکومت کا نیا مالی مراعاتی فیصلہ، تیسرے اور چوتھے بچے پر نقد انعام کا اعلان

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی حکومت نے آبادی کی شرح میں کمی کے خدشات کے پیش نظر ایک نیا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر والدین کو نقد انعام دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ معاشرہ شرح پیدائش میں کمی کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندر اس پالیسی کی مزید تفصیلات جاری کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندر اس پالیسی کی مزید تفصیلات جاری کرے گی۔

وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کے مطابق، تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار روپے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر 40 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

کیا یہ درست فیصلہ نہیں ہے۔یہ اعلان اس سے قبل سامنے آنے والی اس تجویز کے بعد کیا گیا ہے جس میں دوسرے بچے کی پیدائش پر 25 ہزار روپے دینے پر غور کیا جا رہا تھا۔

ریاستی وزیر صحت ستیا کمار یادو کے مطابق اب یہ مراعاتی منصوبہ تیسرے اور اس سے زیادہ بچوں والے خاندانوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔

مارچ 5 سن 2026 کو ریاستی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ حکومت ابتدائی طور پر دوسرے بچے کی پیدائش پر مالی معاونت پر غور کر رہی ہے، تاہم بعد میں اس پالیسی کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ریاستی وزیر صحت ستیا کمار یادو کے مطابق اب یہ مراعاتی منصوبہ تیسرے اور اس سے زیادہ بچوں والے خاندانوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

چین نے امریکی طیاروں کی بڑی خریداری کی تصدیق کر دی

ہنٹا وائرس: کیا سمپسنز نے برسوں پہلے خطرہ بھانپ لیا تھا؟

این چندرابابو نائیڈو نے مزید کہا کہ بدلتے معاشی حالات میں کئی جوڑے صرف ایک بچے پر اکتفا کر رہے ہیں، جبکہ بعض خاندان دوسری اولاد کے لیے بھی مختلف سماجی عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آبادی میں مسلسل کمی طویل مدت میں سماجی اور معاشی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی معاشرے میں آبادی کا مستحکم رہنا تب ممکن ہے جب فی عورت اوسط شرح پیدائش 2.1 بچے ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×