May 20, 2026
47, 3rd floor, Handicraft Building , Main Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi, Pakistan.
ٹرمپ ایران پر حملے سے کیوں رکے؟ بڑا راز سامنے آگیا
Why Did Trump Back Off From Attacking Iran? The Big Secret Revealed

ٹرمپ ایران پر حملے سے کیوں رکے؟ بڑا راز سامنے آگیا

ٹرمپ ایران پر حملے سے کیوں پیچھے ہٹے؟ اسرائیلی صحافی نے سعودی عرب، قطر اور امارات کے دباؤ سے متعلق بڑا انکشاف کردیا

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

امریکی نشریاتی ادارے سے وابستہ اسرائیلی صحافی باراک رویڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کرنے کے پیچھے خلیجی ممالک کا دباؤ اہم وجہ بنا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق باراک رویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کو واضح پیغام دیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کے نتائج اور قیمت خلیجی ممالک کو بھگتنا پڑے گی۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت سے رابطہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت سے رابطہ کیا۔ دوحہ، ابوظبی اور ریاض کی جانب سے مشترکہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ ایران کے معاملے پر مذاکرات کو موقع دیا جائے۔

اسرائیلی صحافی کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے امریکی صدر کو بتایا کہ ایران پر حملے کی صورت میں خطے میں موجود آئل اور توانائی تنصیبات شدید خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

باراک رویڈ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حامی اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک کسی ممکنہ ایرانی ردعمل کے نتیجے میں اپنی آئل اور انرجی تنصیبات کی تباہی نہیں چاہتے۔

واضح رہے کہ پیر کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ان سے درخواست کی کہ ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کردیا جائے۔

ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے بھی قابل قبول ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا ایران امن عمل: 5 سخت شرائط، معاوضہ دینے سے انکار

شکیرا ٹیکس فراڈ کیس میں بری

امریکی صدر نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی رہنماؤں کے احترام میں انہوں نے سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگسیتھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کردی ہے کہ ایران پر کل کے لیے طے شدہ حملہ نہ کیا جائے۔


اپنا تبصرہ لکھیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

×