عالمی یومِ سمندر 2026 پر ماہرین کا انتباہ، پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور غیر قانونی ماہی گیری سمندری حیات کے لیے بڑا خطرہ

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی:ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ سمندر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سمندروں کی اہمیت اجاگر کرنا، انہیں درپیش خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دینا ہے۔
زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ دنیا کی نصف سے زیادہ آکسیجن سمندری پودوں اور جانداروں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے سمندر صرف آبی ذخائر نہیں بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سمندر کیوں اہم ہیں؟
سمندر زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار جذب کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
دنیا بھر میں اربوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کے لیے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، سیاحت، جہاز رانی اور ساحلی معیشتیں لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔

سمندروں کو درپیش خطرات
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران انسانی سرگرمیوں نے سمندری ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پلاسٹک آلودگی سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا کچرا سمندروں میں پہنچتا ہے، جس سے مچھلیاں، کچھوے، ڈولفن اور دیگر سمندری حیات متاثر ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور سمندری ماحولیاتی نظام عدم توازن کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
غیر قانونی اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری بھی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث کئی اقسام کے سمندری جانداروں کی بقا خطرے میں ہے۔

پاکستان اور سمندری ماحول
پاکستان تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے جو سندھ اور بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹی، منوڑہ، ہاکس بے، سینڈزپٹ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے اہم سمندری ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔
تاہم صنعتی فضلہ، پلاسٹک کچرا، تیل کی آلودگی اور غیر منظم شہری ترقی ان علاقوں کے لیے مسلسل خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ عرب میں درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات سمندری حیات، ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں پر واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری طوفانوں کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی یومِ سمندر 2026 کا پیغام
عالمی یومِ سمندر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سمندر صرف ساحلی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ اگر سمندروں کی صحت متاثر ہوگی تو خوراک، معیشت، موسمی نظام اور انسانی زندگی بھی متاثر ہوگی۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
سمندروں کے تحفظ کے لیے ہر فرد اپنا کردار ادا کر سکتا ہے:
پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں۔
ساحلوں اور آبی ذخائر میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔
ماحول دوست مصنوعات کا استعمال کریں۔
سمندری حیات کے تحفظ کے لیے آگاہی پھیلائیں۔
پائیدار ماہی گیری اور مؤثر ماحولیاتی پالیسیوں کی حمایت کریں۔
یہ بھی پڑھیں
ٹرمپ انٹرویو چھوڑ کر اچانک اٹھ گئے، وجہ کیا بنی؟
امام خمینیؒ برسی: رہبرِ انقلاب کو خراجِ تحسین
نتیجہ
سمندر زمین کے پھیپھڑوں، خوراک کے ذخیرے اور موسمیاتی نظام کے محافظ ہیں۔ عالمی یومِ سمندر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اگر ہم نے آج سمندروں کو آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سے نہ بچایا تو آنے والی نسلیں ایک قیمتی قدرتی ورثے سے محروم ہو سکتی ہیں۔
سمندروں کا تحفظ دراصل انسانیت کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
