April 18, 2026
Office no.47, 3rd floor، Building, Abdullah Haroon Road Saddar, Karachi, Pakistan Postal Code : 74400
سندھ میں کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ، اموات پر تشویش بڑھ گئی
اہم اسٹوریز اہم خبریں صحت مند رہو کراچی جانِ من

سندھ میں کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ، اموات پر تشویش بڑھ گئی

Dog bite cases are increasing in Sindh, raising concerns over rising deaths and public safety

سندھ میں کتے کے کاٹنے کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، کیا آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور ویکسین کی کمی نے صورتحال کو خطرناک حد تک سنگین بنا دیا؟

ویب نیوز رپورٹ

سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ رواں سال اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔

ادھر کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ کتے کے کاٹنے کے متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں

اسپتالوں میں روزانہ درجنوں کیسز

کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جناح اسپتال میں یومیہ 50 سے 60 کیسز آتے ہیں۔ سول اسپتال میں یہ تعداد 60 سے زائد ہے ۔

اسی طرح انڈس اسپتال میں بھی روزانہ تقریباً 80 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بروقت ویکسین نہ لگائی جائے تو ریبیز ہو سکتا ہے

ہزاروں کیسز کی رپورٹ

اسپتال انتظامیہ کے مطابق کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متاثرہ افراد بڑی تعداد میں علاج کے لیے اسپتال پہنچ رہے ہیں ۔

اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں رواں سال 6 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ جناح اسپتال میں یہ تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔

ماہرین کی تشویش

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد نے خطرہ مزید بڑھا دیا ہے ۔

ماہرین کے مطابق بروقت ویکسین نہ لگائی جائے تو ریبیز ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

نقل کرنے والے طلبہ پر تاحیات پابندی، سندھ میں سخت امتحانی پالیسی نافذ

کل کیا ہونے والا ہے؟ جنگ سے متعلق تازہ اور اہم بیان سامنے آگیا

انتظامی اقدامات پر سوال

دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں قابو کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اسی وجہ سے عوام میں تشویش مزید بڑھتی جا رہی ہے ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×