ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ،سائٹ ایریا کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد بچوں کا وارڈ عارضی طور پر بند کیا گیا
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

کراچی میں 2019 کے رتوڈیرو ایچ آئی وی پھیلاؤ کے بعد بھی سندھ میں اس بیماری پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ مزید برآں سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران مجموعی طور پر 894 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ نتیجتاً یہ تعداد صحت کے نظام پر بڑے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
متاثرہ افراد کی تفصیلات
اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں مختلف گروہ شامل ہیں۔ ایک جانب 332 مرد اور 204 خواتین میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جبکہ دوسری جانب 29 خواجہ سرا بھی متاثر ہوئے۔
اسی طرح سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال بچوں کی ہے، جن کی تعداد 329 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں، اور یہ تمام بچے 14 سال سے کم عمر ہیں۔

ماہانہ کیسز میں اضافہ
اگر ماہانہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو رجحان مسلسل بڑھتا دکھائی دیتا ہے
جنوری 2026: 294 کیسز
فروری 2026: 324 کیسز
مارچ 2026: 276 کیسز
مزید برآں ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً 3 سے 4 نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بچوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات
طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقے ہیں۔ خاص طور پر استعمال شدہ سرنجوں اور کینولا کا دوبارہ استعمال ایک بڑا خطرہ ہے۔
اس کے علاوہ غیر جراثیم سے پاک طبی آلات اور بغیر جانچ کے خون کی منتقلی بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔
ماہرین کی تشویش اور مشاہدات
کراچی کے ایک نجی اسپتال کے ماہرین کے مطابق اکثر کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب بچے مسلسل بیماری، وزن میں کمی اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں ٹیسٹ کے ذریعے ایچ آئی وی کی تشخیص کی جاتی ہے۔
اسی طرح سائٹ ایریا کراچی کے ایک اسپتال میں تقریباً 100 کیسز سامنے آنے کے بعد بچوں کا وارڈ عارضی طور پر بند کیا گیا اور تحقیقات شروع ہوئیں۔ تاہم اس کے باوجود مکمل کنٹرول ممکن نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں
کیٹل شو سیزن 5، کراچی میں جدید لائیو اسٹاک نمائش کا آغاز
سندھ میں کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ، اموات پر تشویش بڑھ گئی
ماہرین کی سفارشات
ماہرین نے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے ہیں
باقاعدہ خون کی اسکریننگ
طبی آلات کی مکمل جراثیم کشی
سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی
صحت مراکز کی سخت نگرانی
وسیع عوامی آگاہی مہم
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو سندھ میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

