قرضہ بحران مزید سنگین، پاکستان کے مجموعی قرضے 97 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ گئے، ماہرین نے خبردار کر دیا
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اسلام آباد: ہر پاکستانی شہری پیدائشی طور پر لاکھوں روپے کے قرضے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 13 فیصد اضافے کے بعد فی کس قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں نے حکومت اور معیشت دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ قرضوں کا حجم ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 76 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ہر شہری پر قرضے کا بوجھ اوسطاً 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک جا پہنچا۔ ایک سال میں فی پاکستانی قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

قرضوں میں مسلسل اضافہ
رپورٹ کے مطابق عوامی قرضوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ قرضوں میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ 80.5 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 70 فیصد کے برابر بنتی ہے۔
آمدنی اور قرض کا موازنہ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر پاکستانی کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً 5 لاکھ 32 ہزار روپے ہے۔ اس طرح ایک شہری کی سال بھر کی کمائی کا بڑا حصہ قرض کے بوجھ کے برابر ہو چکا ہے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان پر مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر 97 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ برس یہ رقم 89 ہزار 774 ارب روپے تھی۔ یوں صرف ایک سال میں قرضوں میں 7 ہزار 533 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں
تجارتی خسارہ: 11 ماہ میں بڑھ کر 34 ارب 76 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گیا
ماہرین کی تشویش
معاشی ماہرین کے مطابق صورتحال اس لیے بھی سنگین سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ملک کی مجموعی معیشت، یعنی جی ڈی پی، تقریباً 127 ہزار ارب روپے ہے جبکہ قرضوں کا تناسب 76 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
ماہرین نے عام فہم انداز میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کو ایک گھر تصور کیا جائے تو اس گھر کی آمدنی 127 روپے جبکہ قرض 76 روپے کے برابر بنتا ہے۔ یہ مثال مالی دباؤ کی شدت کو واضح کرتی ہے۔
اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر قرضوں میں اضافے کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو حکومت کو آئندہ برسوں میں مالیاتی نظم و ضبط، ترقیاتی اخراجات اور عوامی فلاح کے شعبوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
