Why is Amitabh Bachchan worried?

امیتابھ بچن نے انکشاف کیا ہے کہ کام کے دباؤ اور بہتر کارکردگی کی فکر کے باعث انہیں اکثر رات بھر نیند نہیں آتی جبکہ وہ اب بھی مصروف ہیں۔

ویب نیوز ڈیسک رپورٹ

ممبئی: بالی وڈ کے بے تاج بادشاہ اور بگ بی امیتابھ بچن نے انکشاف کیا ہے کہ پانچ دہائیوں پر محیط کامیاب کیریئر کے باوجود وہ آج بھی کام کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 83 سالہ امیتابھ بچن نے اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں مصروف شیڈول اور ذہنی دباؤ کے بارے میں کھل کر بات کی۔

انہوں نے لکھا کہ کام کی وجہ سے اکثر رات کو سکون سے سو نہیں پاتے۔ ان کے مطابق کسی کام کو مکمل کرنے کے کچھ دیر بعد ہی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اسے مزید بہتر انداز میں کیا جا سکتا تھا۔

امیتابھ بچن نے کہا کہ اگر دوبارہ موقع ملے تو وہ کام دوبارہ بھی کر لیتے ہیں، لیکن یہ یقین نہیں ہوتا کہ نیا کام پہلے سے بہتر ہوا ہے یا نہیں۔ ان کے بقول، اس کا فیصلہ صرف ناظرین ہی کر سکتے ہیں، تاہم یہی خیالات انہیں رات بھر سونے نہیں دیتے۔

سینئر اداکار نے مزید لکھا کہ کئی بار پوری رات گزر جاتی ہے لیکن نیند نہیں آتی۔

نیند سے زیادہ کام اہم

سینئر اداکار نے مزید لکھا کہ کئی بار پوری رات گزر جاتی ہے لیکن نیند نہیں آتی۔ اگرچہ ڈاکٹر روزانہ کم از کم سات گھنٹے نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن ان کے لیے بعض اوقات کام نیند سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

دن کو 36 گھنٹے کرنے کی خواہش

امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں مزاحیہ انداز میں لکھا کہ 24 گھنٹوں میں بہت زیادہ کام کرنا ہوتا ہے، اس لیے ایک دن کو 36 گھنٹوں تک بڑھا دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو پھر اسے 48 گھنٹے کرنے کی خواہش بھی پیدا ہو جائے گی، کیونکہ سیکھنے اور کرنے کے لیے اب بھی بہت کچھ باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سنچیتا اوگلے خودکشی: 22 سالہ بھارتی اداکارہ کی اچانک موت

جیٹ فیول سستا، فضائی سفر بھی سستا؟

کالکی 2898 اے ڈی کے سیکوئل میں جلوہ گر ہوں گے

میڈیا رپورٹس کے مطابق امیتابھ بچن اس وقت کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں “کالکی 2898 اے ڈی” بھی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق وہ “کالکی 2898 اے ڈی” کے سیکوئل میں اشوتتھاما کا کردار دوبارہ نبھائیں گے۔ ناگ اشون کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں پربھاس اور کمل ہاسن بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *