Chinese Teacher’s 10-Month Volunteer Teaching Mission in Pakistan

پاکستان میں رضاکارانہ تدریس کے دوران چینی استاد نے دو لسانی تعلیمی مواد تیار کیا اور فنی تربیت کے نئے معیار متعارف کرائے

شِنہوا

جنان: چین واپس آنے کے دو ہفتے بعد بھی لائی وو ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج کے سمارٹ مینوفیکچرنگ ڈیپارٹمنٹ کے استاد وانگ فینگ جی جب پاکستان میں اپنے رضاکارانہ تدریسی تجربے کا ذکر کرتے ہیں تو غیر ارادی طور پر “ہمارا پاکستان” کہہ دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے درمیان گزارے گئے دس ماہ نے انہیں اس اندازِ گفتگو کا عادی بنا دیا ہے۔

پاکستان میں تدریسی مشن

سن 2025 کے موسم گرما میں کالج نے پاکستان میں تدریسی معاونت کے لیے اساتذہ کا انتخاب کیا۔ اس پروگرام کے تحت وانگ فینگ جی کو ایم سی سی ریسورسز ڈیولپمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ایک مقامی منصوبے میں تعینات کیا گیا، جہاں مقامی الیکٹریشنز کی فنی مہارتوں میں بہتری لانا مقصد تھا۔

وانگ فینگ جی نے رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا، “فنی تعلیم کو سرحدوں سے باہر جانا چاہیے اور میں اس تجربے کا حصہ بننا چاہتا تھا۔”

پاکستان پہنچنے کے بعد انہیں بلوچستان کے ایک صحرائی علاقے میں کام کرنا پڑا، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

بلوچستان کے صحرائی علاقے میں چیلنجز

پاکستان پہنچنے کے بعد انہیں بلوچستان کے ایک صحرائی علاقے میں کام کرنا پڑا، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

پانی کی قلت، کمزور بنیادی ڈھانچہ، پیچیدہ سکیورٹی صورتحال، زبان کی رکاوٹ، تربیت حاصل کرنے والوں کی محدود تعلیمی بنیاد اور ناکافی تربیتی سہولیات ان کے لیے بڑے چیلنج ثابت ہوئے۔

علاقے میں کمپنی کے ہزاروں پاکستانی ملازمین کان کنی، خام دھاتوں کی افزودگی، بجلی کی پیداوار اور دھات سازی کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ اگرچہ وہ معمول کی دیکھ بھال کر لیتے تھے، لیکن سرکٹ ڈایاگرام سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے تھے۔

وانگ فینگ جی نے کہا کہ کارکنوں کی تعلیمی سطح محدود ہونے کے باوجود ان میں سیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی کیونکہ وہ روزانہ مشینوں کے ساتھ عملی طور پر کام کرتے تھے۔

تدریس کا منفرد طریقہ

ابتدائی منصوبے کے مطابق انہیں ہفتے میں تین سے چار مرکزی کلاسیں لینی تھیں، تاہم صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے چھوٹے گروپوں میں تدریس کا طریقہ اختیار کیا۔

وہ کمپیوٹر، تدریسی مواد اور اپنے تیار کردہ الیکٹریکل کنٹرول پینلز کے ساتھ مختلف پلانٹس کا دورہ کرتے اور الیکٹریشن ٹیموں کو تربیت دیتے۔ شور زیادہ ہونے کی صورت میں وہ دفاتر میں پروجیکٹر لگا کر کلاسز منعقد کرتے۔

ہر کلاس میں تقریباً 10 افراد شریک ہوتے جبکہ ہفتہ وار 12 اسباق پڑھائے جاتے تھے۔

اردو اور انگریزی میں تعلیمی مواد

زبان اور نصاب سے متعلق مشکلات دور کرنے کے لیے وانگ فینگ جی نے ایک ماہ سے زائد عرصے میں 180 صفحات پر مشتمل انگریزی کتاب “برقی انجینئرنگ کے بنیادی اصول” مرتب کی۔

انہوں نے انگریزی اور اردو میں دو لسانی تدریسی مواد بھی تیار کیا، جس سے تربیت اور سیکھنے کا عمل زیادہ مؤثر اور آسان بن گیا۔

عملی تربیت پر توجہ

عملی تربیت کے دوران انہوں نے طلبہ کو تربیتی بورڈ تیار کرنا سکھایا، موٹر کنٹرول سرکٹس کی ڈرائنگ اور وائرنگ کی مشق کروائی اور ٹیسٹ، یونٹ کوئز اور ہوم ورک کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو مضبوط بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین کی فنی تعلیم کا طریقہ کار اور مہارتی معیار پاکستان میں متعارف کرایا، جسے کمپنی اور طلبہ دونوں نے سراہا۔

طلبہ کی نمایاں ترقی

دس ماہ بعد وانگ فینگ جی نے اپنے طلبہ میں واضح پیش رفت دیکھی۔

انہوں نے کہا، “زیادہ تر طلبہ چین کے جونیئر الیکٹریشن کے معیار تک پہنچ گئے ہیں جبکہ بعض افراد درمیانی سطح کی مہارت بھی حاصل کر چکے ہیں۔”

پاکستانی مہمان نوازی کی یادیں

وانگ فینگ جی کے لیے سب سے خوشگوار تجربہ صرف فنی کامیابیاں نہیں تھیں بلکہ پاکستانی عوام کی محبت اور خلوص بھی تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ باہر جاتے تو سکول کے بچے انہیں دیکھ کر “ہیلو، چائنیز” کہہ کر خوش آمدید کہتے، جو انہیں بے حد اچھا لگتا تھا۔

ان کے ایک شاگرد علی نے کئی مرتبہ انہیں گھر کھانے کی دعوت دی۔ ایک ویک اینڈ پر انہوں نے یہ دعوت قبول کی، جہاں گائے اور بکرے کا گوشت مقامی لمبے چاولوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔

وانگ فینگ جی نے کہا کہ پاکستانی لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں اور کھانے کے بعد بھی بار بار دریافت کرتے رہے کہ کھانا پسند آیا یا نہیں۔ ان کے بقول، کھانا واقعی بہت لذیذ تھا۔

یہ بھی پڑھیں

ہیٹ ویوز کا الرٹ، لاہور اور فیصل آباد خطرے میں

کراچی میں نیا ٹیکس لاگو ہونے کو تیار

تعلیم کے ذریعے ثقافتی روابط

وانگ فینگ جی کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ تدریس کے دس ماہ نے انہیں یہ احساس دلایا کہ فنی تعلیم صرف ہنر مند افراد تیار کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے، تجربات اور مہارتوں کے تبادلے کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔

چین واپسی کے بعد وہ اپنے تجربات طلبہ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں اور انہیں پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ بین الاقوامی وژن دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، “طلبہ کو ایسی حقیقی مہارتیں سکھانی چاہئیں جو انہیں خود مختار بنائیں، تاکہ وہ جان سکیں کہ ہاتھ میں ہنر ہو تو زندگی کی فکر نہیں رہتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *