ہیپاٹائٹس سی سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور چین پر عالمی بوجھ کا 39 فیصد ہونے کا اہم انکشاف
ویب نیوز ڈیسک رپورٹ
اسلام آباد : پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم، عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ نے صورتحال کو مزید سنگین قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، پاکستان، بھارت اور چین دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی کے مجموعی بوجھ کا انتالیس 39 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستان اُن دس 10 ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی سے اٹھاون 58 فیصد اموات رپورٹ ہوئیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں نئے کیسز
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سن 2024 میں دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے 18 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے۔ اسی دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی سے 13 لاکھ 40 ہزار اموات ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی دنیا کی مہلک ترین بیماریوں میں شامل ہیں۔ یوں یہ بیماری عالمی صحت کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

علاج تک رسائی محدود
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہیپاٹائٹس سی کے صرف 20 فیصد مریضوں کو علاج میسر آ سکا۔ دوسری جانب ہیپاٹائٹس بی کے 5 فیصد سے بھی کم مریض علاج حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور آلودہ انجیکشنز بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ خصوصاً غیر معیاری طبی سہولیات خطرات بڑھا رہی ہیں۔
پاکستان میں غیر محفوظ سرنجز پر تشویش
رپورٹ میں پاکستان میں غیر محفوظ انجیکشنز اور سرنجز کے دوبارہ استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ علاؤہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جعلی “آٹو ڈس ایبل” سرنجز عوام کو غلط تحفظ کا احساس دے سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین 95 فیصد سے زائد تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جبکہ ہیپاٹائٹس سی 8 سے 12 ہفتوں میں قابل علاج مرض ہے۔
یہ بھی پڑھیں
لاہور میں 5 سال میں 824 خواتین غائب، کسی کا سراغ نہ ملا
روسی گھریلو کھانے کیوں خاص ہیں؟
سال2030 کے اہداف خطرے میں
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ سال 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے اہداف کے لیے موجودہ پیش رفت ناکافی ہے۔ نتیجتاً ماہرین نے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔


