کراچی کی گرمی اور لا نینا: ہیٹ ویوز، مون سون میں تبدیلی اور شہری عوامل مل کر درجہ حرارت، حبس اور موسمی شدت میں مسلسل اضافہ

ویب نیوز رپورٹ : ماریہ اسمعیل
کراچی کے باسی ہر سال گرمی کے موسم میں شدید درجہ حرارت، حبس اور گرمی کی لہروں کا سامنا کرتے ہیں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف سورج کی تپش یا مقامی موسمی حالات ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دنیا کے ایک سرے پر واقع بحرالکاہل میں رونما ہونے والا ایک قدرتی موسمی رجحان، جسے “لا نینا” (لا نینا) کہا جاتا ہے، ہزاروں کلومیٹر دور پاکستان اور خصوصاً کراچی کے موسم پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمی نظام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور دنیا کے ایک حصے میں ہونے والی تبدیلی دوسرے خطوں کے موسم کو متاثر کر سکتی ہے۔

لا نینا کیا ہے؟
لا نینا ایک قدرتی موسمی رجحان ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری پانی کے معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ یہ دراصل “ایل نینو سدرن اوسیلیشن” (این ایس او) نامی موسمی نظام کا ایک مرحلہ ہے۔
جب سمندر کا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے تو فضائی دباؤ، ہواؤں کی سمت اور بارشوں کے عالمی نظام میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستان پر لا نینا کے ممکنہ اثرات
ماہرین موسمیات کے مطابق لا نینا پاکستان کے موسم کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے۔
شدید گرمی کی لہریں
بعض اوقات لا نینا کے دوران جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور گرمی کی لہروں کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔
بارشوں کے نظام میں تبدیلی
لا نینا بارشوں کی مقدار اور تقسیم کو متاثر کر سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ جبکہ بعض مقامات پر کم بارشیں ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس سے زرعی شعبہ، آبی ذخائر اور روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
مون سون میں تبدیلی
مون سون کے نظام پر بھی لا نینا اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بارشوں کی آمد میں تاخیر یا غیر متوقع شدت شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

کراچی کیوں متاثر ہوتا ہے؟
کراچی کا موسم سمندر سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عام طور پر سمندری ہوائیں شہر کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم اگر موسمی نظام میں تبدیلی کے باعث سمندری ہوائیں کمزور پڑ جائیں یا بارشوں میں تاخیر ہو تو شہر میں گرمی اور حبس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض برسوں میں لا نینا کے اثرات دیگر موسمی عوامل کے ساتھ مل کر کراچی کے موسم کو مزید گرم اور مرطوب بنا سکتے ہیں۔

کیا صرف لا نینا ذمہ دار ہے؟
کراچی کی موجودہ شدید گرمی کا ذمہ دار صرف لا نینا کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت متعدد مقامی اور عالمی عوامل مل کر اس صورتحال کو سنگین بناتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی
عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ موسم کے قدرتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو رہی ہیں۔
درختوں کی کمی
شہر میں تیزی سے کم ہوتے سبزہ زار اور درخت قدرتی ٹھنڈک کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
بے ہنگم شہری آبادی
بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تعمیرات، ٹریفک اور توانائی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے جو گرمی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
کنکریٹ کا پھیلاؤ
سڑکیں، عمارتیں اور کنکریٹ کے ڈھانچے دن بھر حرارت جذب کرکے رات تک خارج کرتے رہتے ہیں، جس سے شہری درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس رجحان کو “اربن ہیٹ آئی لینڈ” (شہری حرارتی جزیرہ) کہا جاتا ہے۔
فضائی آلودگی
گاڑیوں، صنعتوں اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی فضا میں گرمی کو قید کرنے کا سبب بنتی ہے اور درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی موسمی رجحانات پر مقامی سطح پر قابو پانا ممکن نہیں، لیکن ان کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات ضرور کیے جا سکتے ہیں۔
زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں
شہری منصوبہ بندی میں سبز مقامات کو ترجیح دی جائے
توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیا جائے
فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں عوامی شعور بڑھایا جائے
یہ بھی پڑھیں
عشق کی خاطر پاکستانی نوجوان لائن آف کنٹرول پار پہنچ گیا
پاک بھارت جنگ روکنے کا کریڈٹ، مارکو روبیو بھی میدان میں آگئے
لا نینا ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ قدرت کا نظام کس قدر باہم مربوط ہے۔ بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت ہزاروں کلومیٹر دور کراچی کے موسم کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے اعمال بھی شہر کے موسمی حالات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اگر سمندر کے ایک حصے کی تبدیلی پوری دنیا کے موسم کو بدل سکتی ہے تو ہمارے اپنے شہر میں لگایا گیا ایک درخت، محفوظ کیا گیا ایک سبزہ زار اور ماحول دوست ایک فیصلہ بھی مستقبل کی نسلوں کے لیے بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔
